مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے وزیر حسین الشیخ نے بتایا کہ ماہرین نے شہید ابو عین کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا ہے۔
تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کےتشدد، آنسو گیس کی شیلنگ، اسپتال بروقت پہنچنے میں رکاوٹ ابوعین کی موت کا موجب بنی ہیں۔ انہیں زخمی حالت میں بروقت طبی سہولت مہیا کی جاتی اور جسم سے فواروں کی طرح نکلتے خون کو روکا جاتا تو ان کی زندگی بچائی جا سکتی تھی۔
صوت فلسطین ریڈیو سے بات کرتے ہوئے حسین الشیخ نے کہا کہ ابو عین کا پوسٹ مارٹم اردن، فلسطین اور اسرائیل کے ماہرین پر مشتمل میڈیکل ٹیموں نے کیا ہے۔ پوسٹ مارٹم نتائج سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ابو عین کی موت میں کلی طورپر اسرائیلی فوج قصور وار ہے۔
حسین الشیخ نے بتایا کہ یہودی فوجیوں نے پہلے ابو عین کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے زہریلی آنسو گیس کی شیلنگ کی اور شدید زخمی ہونے کے باوجود اسے اسپتال منتقل کرنے سے بھی روک دیا گیا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی اور اردنی ٹٰیموں نے ابوعین کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر دستخط کر لیے ہیں تاہم اسرائیلی میڈیکل ٹیم ’اوپر‘ سے اشارے کی منتظرہے ہے اور اس پر دستخط کے لیے مزید مہلت مانگی ہے۔
فلسطینی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیکل ٹیم کی جانب سے پوسٹ مارٹم رپورٹ پر دستخط سے پہلو تہی اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی ریاست پوسٹ مارٹم کے من مرضی کے نتائج حاصل کرنا چاہتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
