اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے نام نہاد یہودی آثار قدیمہ کے پتھروں کی تلاش میں مغربی کنارے میں جنین شہر کے ایک گاؤں واقع ایک قدیم تاریخی مسجد پر دھاوا بول کر نمازیوں کو زد وکوب کیا ہے۔
دیہی کونسل کے سربراہ فحمہ محمد نواصرہ نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ صہیونی فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد پیر کی صبح فجر کے وقت گاؤں کی اس مسجد پر حملہ آور ہوئی اور اس کے مختلف حصوں کی تصاویر لیتی رہی۔ صہیونی اہلکاروں نے اس موقع پر ایک نمازی ایسے پتھر کے بارے میں استفسار کیا جس پرعبرانی عبارات درج ہیں۔اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ پتھر کئی دہائیوں سے مسجد میں موجود ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج اس سے قبل بھی بارہا ان پتھروں کی تلاش میں مسجد میں گھس کر اس کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں۔فلسطینی ذرائع کے مطابق مسجد تقوی کے نام سے معروف اس مسجد کی عمارت دراصل رومی دور کی ہے جسے بعد ازاں مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
