(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نام نہاد فوج نے غزہ شہر کی صلاح الدین اور الرشید شاہراؤں پر ہزاروں فلسطینی شہریوں پر اس وقت فائرنگ کی، جب وہ اپنے گھروں کی طرف واپسی کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ النصیرات کے العودہ اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ اس فائرنگ میں ایک فلسطینی شہید اور پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا۔ یہ افراد شمالی غزہ کی طرف واپس جانے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں النصیرات کے مغربی علاقے سے اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گھر افراد کی واپسی کو روکنے اور نیٹزارم محور کو بند کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ حماس نے ہفتے کی شام ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیلی فوج کو معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ حماس کا کہنا تھا کہ فوج رشید سٹریٹ کو بند کر کے بے گھر افراد کی واپسی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، جس سے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد میں مشکلات آ رہی ہیں۔
ایک اور واقعے میں اسرائیلی فوج نے سینکڑوں شہریوں پر فائرنگ کی، جو غزہ اور شمالی غزہ کی پٹی میں اپنے گھروں کی طرف واپس جانے کے انتظار میں نصیرات کے مشرق میں کھڑے تھے۔ فائرنگ کے نتیجے میں 43 سالہ رائد نوفل شہید ہوگئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب قابض فوج نے قیدی اربیل یہود کو رہا کرنے کے بجائے بے گھر افراد کو واپس جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔
حماس کے ذریعے الجزیرہ کو یہ تصدیق ملی کہ اربیل یہود زندہ ہے اور اسے اگلے ہفتے تیسرے بیچ کے حصے کے طور پر رہا کیا جائے گا۔ القدس بریگیڈز کے ایک ذریعے نے بھی بتایا کہ اربیل یہود ان کے قبضے میں ہے اور اسے فوجی افسر کے طور پر رہا کیا جائے گا۔