(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کےذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صیہونی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو مقبوضہ فلسطین کے محصور شہر غزہ پر جاری جارحیت کو روکنے یا قیدیوں کے تبادلے کی کسی بھی ڈیل کو اس وقت تک منظور نہیں کریں گے جب تک کہ یہ فیصلہ امریکی صدر کی طرف سے واضح حکم یا دباؤ کے طور پر نہ آئے۔
اسرائیلی چینل "13” کے مطابق، نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی یا کسی معاہدے کے لیے اقدامات اس وقت تک معطل ہیں جب تک 20 جنوری کو امریکی صدارتی اختیارات کی منتقلی کے نتائج واضح نہ ہوں۔
چینل کے مطابق، اگر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ وائٹ ہاؤس میں آتے ہیں اور نیتن یاہو کو جنگ ختم کرنے کا حکم دیتے ہیں، تو شاید یہ جنگ بندی ممکن ہو سکے۔
اس صورتحال پر اسرائیلی فوجی حکام نے کئی بار خبردار کیا ہے کہ "غزہ میں جنگ کے بعد کا کوئی واضح منصوبہ نہ ہونا” خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ حکام کے مطابق، نیتن یاہو نہ تو حماس کے خاتمے کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو اختیارات دینے کے حق میں ہیں اور نہ ہی غزہ میں فوجی حکومت قائم کرنے پر راضی ہیں، جس کے باعث یہ تنازع مغربی کنارے تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔