(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی، ایتمار بن گویر نے جمعرات کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی قید سے رہاہونے والے اسرائیلی قیدیوں کی تصاویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ تصاویر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ہم نے غزہ میں جو کچھ بھی وہ فتح نہیں بلکہ ایک مکمل ناکامی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ "یہ تبادلے کا معاہدہ بے مثال ہے، اور اسرائیلی حکومت نے اسے تسلیم کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے۔
اسرائیل ہمارا گھر” پارٹی کے سربراہ، ایویگڈور لیبرمین نے بھی غزہ سے آنے والی تصاویر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ تصاویر ثابت کرتی ہیں کہ ہمیں غزہ سے ہمیشہ کے لیے الگ ہو جانا چاہیے۔” اسی طرح، اسرائیلی وزیر خزانہ، بیزالیل اسموٹریچ نے بھی اس منظر پر اپنی تشویش ظاہر کی، انہوں نے کہا، "ہم قیدیوں کی واپسی پر خوشی محسوس کرتے ہیں، لیکن معاہدے کے حصے کے طور پر ادا کی جانے والی قیمت کے بارے میں فکر مند ہیں۔”
اسرائیلی حکام کے یہ بیانات غزہ کے شمال میں واقع جبالیہ اور جنوب میں خان یونس کے علاقے میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہجوم اور خاص طور پر حماس کے رہنما شہید یحییٰ السنوار کے گھر کے قریب اسرائیلی قیدیوں کے تبادلے کے منظر کے بعد سامنے آئے۔ اس دوران شہری مزاحمتی جھنڈے اور شہید سید حسن نصر اللہ اور تحریک انصار اللہ کے رہنما سید عبدالمالک الحوثی کی تصویریں اٹھا کر خان یونس کے ہجوم میں شامل ہوئے۔
اس تناظر میں، حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ غزہ کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے مقامات کے تنوع نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین پر قیام پذیر رہیں گے اور مزاحمت جاری رکھیں گے۔ حماس نے یہ بھی کہا کہ وہ علاقے جو قابض فوج کے حملوں سے تباہ ہوئے اور جہاں بہت سے فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، آج وہ ان کی مزاحمت کی فتح کے گواہ بنے ہیں۔ مزید برآں، حماس نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ اس واقعہ نے القسام بریگیڈز، القدس بریگیڈز اور دیگر مزاحمتی قوتوں کے اتحاد اور یکجہتی کو ثابت کیا ہے، جو اس تبادلے کے عمل کو منظم کرنے میں شریک تھے۔