(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) پاکستان نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیاں، غیر ملکی قبضے کے تحت لوگوں کے حقوق کی پامالی، ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدوں کو ختم کرنا، مذاہب کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک، اور تیسرے ممالک میں ٹارگٹ کلنگ جیسے اقدامات بھی "قانون کی حکمرانی” کی تباہی کے دیگر پہلوؤں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی چھٹی کمیٹی کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی سطح پر "قانون کی حکمرانی” کی وضاحت کی اشد ضرورت ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں گزشتہ ایک سال سے جاری نسل کشی کی جنگ کے ذریعے عالمی سطح پر "قانون کی حکمرانی” کے پورے تصور کو تباہ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کا احترام اور ان کا نفاذ یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر، جنیوا کنونشنز، ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدے، اور انسانی حقوق کے کنونشنز جیسے بین الاقوامی معاہدے قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہیں۔
منیر اکرم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 25 کے تحت ممبر ممالک کی قانونی ذمہ داریوں کو اجاگر کیا، جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے پابند کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے کچھ اہم اعلامیے، جیسے کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کا اعلامیہ اور دوستانہ تعلقات کا اعلامیہ، عالمی "مشترکہ قانون” کا درجہ اختیار کر چکے ہیں، جن کا احترام ضروری ہے۔
بین الاقوامی عدالت انصاف کا کردار:
بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) کا عالمی قانونی نظام کی تشکیل میں کلیدی کردار ہے، اور اس کی مشاورتی رائے اور فیصلے قانون کی حکمرانی کا حصہ ہیں۔