(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادادہ) غاصب صیہونی افواج نے تباہ شدہ محصور شہر غزہ میں نسل کشی اور سنگین جنگی جرائم کا سلسلہ 438ویں روز بھی جاری رکھا ہوا ہے، جہاں وہ شمالی علاقوں کو بفر زون بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق، قابض فوج جبالیہ کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے روک رہی ہے اور اس علاقے کو مستقل طور پر بفر زون بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، گیواتی بریگیڈ نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ، بیت حنون اور دیگر شمالی علاقوں میں آپریشن کرتے ہوئے سینکڑوں فلسطینی مزاحمت کاروں کو گرفتار یا ہلاک کیا گیا ہے۔
162 ویں ڈویژن، جو ان شدید کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے، کا اندازہ ہے کہ جبالیہ اور اس کے گردونواح میں اب بھی تقریباً 100 مزاحمت کار چھپے ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، غاصب صیہونی افواج کے آپریشن کے باعث شمالی غزہ کی پٹی کے تقریباً 70,000 میں سے 65,000 افراد غزہ شہر کے جنوب میں منتقل ہو چکے ہیں، جبکہ چند ہزار شہری بڑی پناہ گاہوں، اسکولوں اور کلینکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ فوج کی جانب سے علاقے کو غیر محفوظ قرار دے کر محاصرے میں رکھنے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے شمالی غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
اخبار نے مزید کہا کہ قابض فوج کی حکمت عملی کا اہم پہلو یہ ہے کہ آیا جبالیہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے دیا جائے گا یا انہیں روکا جائے گا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل پٹی کے شمالی حصے کو مستقل طور پر خالی کر کے اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، جیسا کہ اس نے ایک سال قبل جنوبی علاقوں میں کیا تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غزہ کو مزید تقسیم کر کے فلسطینیوں کے لیے واپسی کو ناممکن بنانا اور آبادی کو جبری بے دخلی کا شکار کرنا ہے۔