(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ شہر اور شمالی علاقے کے باشندے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے فوجی انخلا کے بعد پانی کی فراہمی کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں پانی کی فراہمی کی سہولتوں کی تباہی اور اس کے دوبارہ آپریشن کے لیے درکار بھاری اخراجات نے عوام کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
اس وقت لوگ امدادی ٹرکوں پر انحصار کر رہے ہیں جو شمالی غزہ میں پینے کا پانی فراہم کرتے ہیں، مگر یہ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے، جس کے باعث لوگ لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر پانی بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ احمد ابو ندا، ایک فلسطینی شہری، روزانہ طویل فاصلے طے کر کے اپنے چار گیلن پانی بھرنے کے لیے جبالیہ پناہ گزین کیمپ جاتے ہیں، جو غزہ کے شمالی علاقے میں واقع ہے اور پانی کی کمی کا شکار ہے کیونکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے وہاں کے پانی کے کنویں اور پانی کی لائنوں کو تباہ کر دیا تھا۔ ابو ندا، جو خود بھی ایک پرانی چوٹ کی وجہ سے بھاری سامان نہیں اٹھا پاتے، اپنے بچوں کے ساتھ یہ پانی گھر لے جاتے ہیں تاکہ وہ اپنے خاندان کی ضرورت پوری کر سکیں۔
ابو ندا نے بتایا کہ "ہم شمال میں واپس آئے تو ہمیں کیمپ میں زندگی کی بنیادی سہولتیں نہیں ملیں، ہمارا گھر تباہ ہو چکا تھا اور کوئی خیمے بھی نہیں ملے۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ یمن سعید اسپتال میں پناہ لے لیں لیکن وہاں پانی کی سہولت بھی نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ "آج بھی ہم پانی کے لیے دور دراز کے کنوؤں تک جاتے ہیں اور بعض اوقات ہم پانی کے کنوؤں کو چلانے کے لیے ایندھن خریدنے میں حصہ ڈالتے ہیں تاکہ ہمیں پانی مل سکے۔”
اسی طرح، احمد ابو حلیمہ نے کہا کہ وہ اپنے علاقے میں پانی کی کمی کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں روزانہ چار کلو میٹر تک پیدل چل کر پانی بھرنا پڑتا ہے۔ ابو حلیمہ کا کہنا تھا کہ "ہمیں پانی کے لیے شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں، اور ہمیں اس وقت کھارے پانی کا استعمال کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ ہمارے علاقے میں پینے کے پانی کی فراہمی نہیں ہے۔”
شمالی غزہ کے مختلف علاقوں میں بلدیات کوشش کر رہی ہیں کہ تباہ شدہ پانی کی لائنوں کو دوبارہ چلایا جائے یا پھر بیرونی پانی کی لائنیں لگائی جائیں تاکہ عوام کو پانی کی فراہمی ہو سکے۔ اس کے باوجود، غزہ شہر بھی پانی کے بحران سے متاثر ہے، جہاں پانی کی فراہمی کی مشکلات کے باعث لوگ پانی کی لائنوں کے سامنے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں اور بعض لوگ خود اپنے اخراجات پر پانی کے کنوئیں چلانے کے لیے جنریٹرز کا استعمال کرتے ہیں، جو انہیں بہت مہنگا پڑتا ہے۔