اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں بنائے گئے”الجلمہ” جیل میں زیرحراست فلسطینیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے۔ نیز جیل کا ماحول کسی بھی لحاظ سے انسانوں کے رکھے جانے کے لیے موزوں نہیں ہے۔
فلسطین میں اسیران کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم” کلب برائے اسیران ” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں مغربی کنارے کے شمالی شہرطولکرم کے ایک محروس موسیٰ صوفان کو فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ملزم کے جسمانی ریمانڈ کے لیے مزید آٹھ دن کا وقت دے۔
اس موقع پر ملزم نے عدالت کے سامنے اپنا موقف بیان کرنے کی استدعا کی۔ عدالت کی اجازت پراسیر نے جیل کی غیرانسانی کیفیت سے متعلق آگاہ کیا۔ اسیر نے بتایا کہ اسے الجلمہ جیل کی ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں رکھا گیا ہے جہاں نہ ہوا کا گذر ہے اور نہ ہی روشنی کی کوئی کرن داخل ہو سکتی ہے۔
اسیرکے موقف پر پہلی مرتبہ خلاف معمول صہیونی جج نے جیل میں ہونے والے غیر انسانی سلوک کی مذمت کی اور اعتراف کیا کہ الجلمہ جیل انسانوں کو رکھنے کی جگہ نہیں ہے۔ کسی بھی ملزم کو اس طرح حبس بے جا میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں جو ملزم کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سخت تباہ کن ثابت ہو۔
انسانی حقوق گروپ کے مطابق ایک جانب صہیونی جج نے الجلمہ جیل میں قیدیوں کے ساتھ جاری غیرانسانی سلوک کی مذمت کی اور جیل کے ماحول کو”انسان دشمن” قرار دیا لیکن ساتھ ہی پراسیکیوٹر کی سفارش پر اسیر موسیٰ صوفان کو اسی جیل میں مزید آٹھ روز تک حراست میں رکھنے اور اس سے تفتیش کی بھی اجازت دے دی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
