نیویارک: غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی کارروائیوں کے نتیجے میں 2024 میں دنیا بھر میں صحافیوں کی ہلاکتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور غاصب صیہونی ریاست صحافیوں کے سب سے بڑے قاتل کے طور پر سامنے آئی ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2024 میں دنیا کے تقریباً 70 فیصد صحافیوں کے قتل کا ذمہ دار غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ہے۔ بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کمیٹی نے تصدیق کی کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کم از کم 85 فلسطینی صحافیوں کو قتل کیا گیا، جو کہ دہائیوں میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
کمیٹی نے اسرائیلی میڈیا اور عسکری حلقوں میں بڑھتی ہوئی مخالفانہ بیان بازی کے تناظر میں صحافیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، "صحافیوں کے تحفظ” کی علم بردار تنظیم نے انتباہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صحافیوں پر حملے اس علاقے کو دنیا کے خطرناک ترین میڈیا کوریج والے مقامات میں سے ایک بنا رہے ہیں۔
کمیٹی نے مزید کہا کہ غزہ میں صحافیوں کے لیے حالات انتہائی پیچیدہ ہو چکے ہیں، جہاں انٹرنیٹ اور بجلی کی بندش کے باعث مقامی صحافیوں کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کئی صحافیوں نے اس جنگ میں اپنے خاندان، دوستوں اور گھروں کو کھو دیا، جبکہ اندرونی دباؤ نے ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے یہ بھی اعلان کیا کہ 2024 صحافیوں کے لیے اب تک کا سب سے خطرناک سال تھا، جس میں 124 میڈیا ورکرز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کمیٹی کے سربراہ جوڈی گنزبرگ نے کہا، "سی پی جے کی تاریخ میں یہ وقت صحافی بننے کے لیے سب سے خطرناک ہے۔”
کمیٹی نے کہا کہ 2024 میں صحافیوں کی ہلاکتوں کا بڑا حصہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جنگی کارروائیوں سے منسلک ہے، جہاں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں کم از کم 85 صحافی شہید ہوئے، جن میں 82 فلسطینی صحافی شامل ہیں۔ اس نے عالمی سطح پر صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے موجود قوانین اور اصولوں میں بڑی خرابی کی نشاندہی کی، جو نہ صرف غزہ بلکہ دنیا بھر میں صحافیوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہی ہے۔