اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے قیدیوں تک رقوم پہنچانے کے الزام میں ایک فلسطینی کو تین سال قید بامشقت اور اٹھارہ ہزار ڈالرز جرمانہ کی سزا کا حکم دیا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ملزم کو ایک سال مزید جیل میں قید کاٹنا ہو گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے سامنے آنے والی خبرمیں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی شہر حیفا کی ایک عدالت نے المصمص شہر کے رہائشی 33 سالہ فلسطینی شہری کو کچھ عرصہ قبل حراست میں لیا گیا تھا۔ دوران تفتیش یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس کے اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست حماس کے اسیران اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ رابطے تھے۔ پچھلے ایک سال کے دوران اس نے کئی مرتبہ اسرائیلی جیلوں میں قید حماس کے ارکان اور دیگر قیدیوں تک بھاری رقوم پہنچائی تھیں۔ ذرائع ابلاغ نے ملزم کا نام نہیں بتایا البتہ میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے کم سے کم ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالرز موجودہ اور سابقہ قیدیوں تک پہنچائے تھے۔
اس کے علاوہ اس نے جنین کے مشرقی علاقے برطعہ کے ایک شخص کو بھی بھاری رقوم فراہم کی تھیں۔ یہ رقوم فلسطین میں چینی بنکوں کے ذریعے منتقل کی جاتی رہی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین