(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فائرنگ کے احکامات میں توسیع کر دی ہے، جس سے فلسطینی شہداء کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ وہی قاتلانہ پالیسی ہے جو پہلے سے غزہ میں اپنائی گئی تھی جہاں صیہونی افواج نے نہتے فلسطینیوں پر اندھا دھند گولیاں برسائیں اور ہزاروں کو شہید کیا۔
اسرائیلی اخبار "ہآرتس” کی رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کے یونٹ کمانڈرز نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی وسطی علاقے کی کمانڈ نے غزہ میں لاگو کیے گئے فائرنگ کے احکامات کو مغربی کنارے میں بھی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت کسی بھی فلسطینی کو چاہے وہ غیر مسلح ہی کیوں نا ہو قتل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ فلسطینی کو چاہے وہ غیر مسلح ہو یا اس پر کوئی شک نہ ہو، قتل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
وسیع پیمانے پر فائرنگ کے احکامات فلسطینیوں کا قتل عام
رپورٹ کے مطابق صیہونی فوج کے وسطی علاقے کے کمانڈر آوی بلوط نے فوجیوں کو فائرنگ کے احکامات میں نرمی دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فلسطینی کو نشانہ بنانا آسان بنایا جائے۔
واضح رہے کہ 21 جنوری سے صیہونی افواج نے شمالی مغربی کنارے میں وحشیانہ حملے تیز کر دیے ہیں۔ یہ جارحیت جنین اور اس کے کیمپ سے شروع ہوئی اور پھر طولکرم نور شمس طمون اور طوباس کے الفارعة كيمپ تک پھیل گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا . آوی بلوط نے فوجیوں کو واضح ہدایت دی ہے براہ راست فلسطینیوں کو قتل کرنے میں آزاد ہیں گرفتاری کے بجائے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا جائے۔الفارعة كيمپ تک پھیل گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آوی بلوط نے فوجیوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ گرفتاری کے بجائے براہ راست فلسطینیوں کو قتل کریں۔
قتل عام کے تازہ واقعات
صیہونی فوج کے یونٹ کمانڈرز نے انکشاف کیا ہے کہ مغربی کنارے کی بٹالین کے کمانڈر پاکی ڈولف نے کسی بھی گاڑی پر فائرنگ کے احکامات جاری کیے جو لڑائی کے علاقے سے چیک پوائنٹ کی طرف آ رہی ہو۔
اسی حکم کے تحت اتوار کے روز صیہونی فوجیوں نے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس میں ایک مرد اور عورت سوار تھے۔ 23 سالہ سندس جمال اور محمد شبلی کو ان کے بچے سمیت گولیوں سے چھلنی کرکے شہید کردیا، جبکہ ان کے شوہر کو سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ مشرقی طولکرم میں نور شمس کے کیمپ سے ہجرت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
صیہونی فوج نے فلسطینیوں کو انسانی ڈھال بنانا شروع کر دیا
"بارتس” کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صیہونی فوجی دستے فلسطینی شہریوں کو زبردستی عمارتوں کی تلاشی میں استعمال کر رہے ہیں، جہاں بموں کی موجودگی کا شبہ ہوتا ہے۔
یہ وہی ظالمانہ طریقہ کار ہے جو غزہ میں اپنایا گیا تھا، جہاں صیہونی افو لسطینیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استع انہیں اپنی ہی