فلسطینی مذہبی سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے سیاسی شعبے کے نائب صدر ڈاکٹر موسٰی ابو مرزوق نے کہا ہے کہ قومی حکومت جنوری کے اختتام سےقبل قائم کر لی جائے گی، تاہم وزارت عظمیٰ کے متفقہ امیدوار کا اعلان 26 جنوری سے قبل نہیں کیا جائے گا۔
قاہرہ میں مرکز اطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہماری جماعت کی جانب سے ابھی تک وزارت عظمیٰ کے لیے کوئی نام پیش نہیں کیا گیا ہے۔ اس موضوع پر ابھی بات چیت جاری ہے۔ ہم نے اکتیس جنوری سے قبل قومی حکومت کا قیام عمل میں لانا ہے تاہم وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا اعلان بھی چھیس جنوری سےقبل نہیں ہو گا۔
حکومت کی تشکیل میں تاخیر کیوں؟
مرکزاطلاعات فلسطین کی جانب سے قومی عبوری حکومت کی تشکیل میں تاخیر کے سبب بارے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حماس کے رہ نما نے کہا کہ فتح کی جانب سے یہ تجویز آئی ہے کہ قومی حکومت کی تشکیل کا معاملہ جنوری کے آخر تک لے جایا جائے، کیونکہ جنوری کے آخری ہفتےمیں صدر محمود عباس نے امریکا، روس، یورپی یونین اوراقوم متحدہ پر مشتمل گروپ چار سے مذاکرات کرنے ہیں اور وہ اس وقت تک قومی حکومت کی تشکیل کو تاخیر میں ڈلوانا چاہتے ہیں۔
اس سلسلے میں ہم نے صدر محمود عباس پر واضح کر دیا ہے کہ قومی حکومت کا قیام کسی بیرونی مداخلت کے باعث تاخیر کا شکار نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اب تک فلسطینیوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہی بیرونی مداخلت رہی ہے۔
سیاسی قیدیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں حماس رہ نما نے کہا کہ حماس اور فتح کے درمیان تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی پر اتفاق ہو چکا ہے اور اس سلسلے میں ایک کمیٹی بھی قائم کی جا چکی ہے۔ یہ کمیٹی اسی ہفتے اپنا کام شروع کر دے گی۔