(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیونی ریاست اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے "نتن یاہو حکومت کو گرانے کے لیے عدم تششد پر مبنی وسیع پیمانے پر سول نافرمانی شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہمیں نتن یاہو حکومت کو گرانا چاہیے، اس سے پہلے کہ وہ ہم سب کو ایک تاریک اور بدعنوان آمریت کے گڑھے میں گرائے”۔
باراک نے اسرائیلی اخبار "ہارٹز” میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا کہ "نتنیاہو مشکل میں ہیں اور انہیں بڑے چیلنجز کا سامنا ہے: حماس جنگ کے باوجود غزہ پر قابض ہے، نیز غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے، اور وہ حریدیم (مذہبی یہودیوں) کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہونے کے قانون، بجٹ، اور 7 اکتوبر کے واقعات کے بارے میں سرکاری تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کے دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تمام امور نتن یاہو حکومت کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، اور یہ اسرائیل کے لئے اچھی بات ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ "نتنیاہو کا حکومت میں رہنا ہماری آزادی اور شناخت کو ختم کر رہا ہے، اور یہ ناقابل تصور ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے، اسی لیے میں نے نتن یاہو حکومت کو گرانے کا مطالبہ کیا ہے”۔
ٹرمپ نتنیاہو سے معاہدے کو مکمل کرنے کا مطالبہ کریں گے
ایہود باراک نے مزید کہا کہ "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اپنے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وِٹکوف کی دورے کے بعد، جو نتن یاہو پر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے تھا، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ نیتن یاہو سے حماس کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو مکمل کرنے کا مطالبہ کریں گے، اور غزہ میں مکمل پیمانے پر لڑائی دوبارہ شروع کرنا ممکن نہیں ہوگا”۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں، فلسطینی اتھارٹی کی منظوری اور شرکت، عرب لیگ کی حمایت، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ ایک عرب فوج اس منظر میں داخل ہوگی، جس کے نتیجے میں بتدریج حماس کا "متبادل” تشکیل پائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے ٹرانسفر کا معاملہ تیزی سے ختم ہو جائے گا، اور غزہ یا مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو ضم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور اس کے بعد "اسرائیل” کو ہتھیار ملیں گے اور ایران کو دھمکیاں دی جائیں گی، لیکن اس کے باوجود ٹرمپ بعد میں ایک بہتر جوہری معاہدے کی کوشش کریں گے۔