(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے رہنما نے کہا ہے کہ "حماس سمجھتی ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل جنگ بندی معاہدے کو ناکام بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔”
فلسطینی رہنما نے مزید کہا کہ "حماس کے نزدیک صیہونی ریاست کی جانب سے معاہدے کے دوسرے مرحلے سے متعلق دیے گئے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ مستقل جنگ بندی اور مکمل انخلا کے حق میں نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "حماس سمجھتی ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے دوسرے مرحلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بے لگام فیصلوں پر بہت زیادہ انحصار کر رہی ہے۔”
حماس کی سخت تنبیہ
فلسطینی رہنما کے مطابق، "حماس نے خبردار کیا ہے کہ اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عمل نہ کرے تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب آج اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو "کابینہ کے اجلاس میں، جو منگل کو ہوگا، قیدیوں کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے صیہونی ریاست کے مطالبات پیش کرے گا، جنہیں حماس قبول نہیں کرے گی۔”
صیہونی ریاست کے غیر حقیقی مطالبات
یدیعوت احرونوت اخبار کے مطابق، صیہونی ریاست کے مطالبات درج ذیل ہیں:
حماس کی قیادت کو جبری طور پر غزہ سے نکالنا۔
حماس کے عسکری ونگ کو اسلحے سے مکمل طور پر محروم کرنا۔
تمام قیدیوں کو واپس لانا۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی خفیہ سازش
اخبار نے مزید بتایا کہ "معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت منگل کو کابینہ اجلاس کے بعد ہی شروع ہوگی۔” اس دوران، صیہونی ریاست کا وہ وفد جو دوحہ گیا ہے، "فی الحال پہلے مرحلے پر ہی بات چیت کر رہا ہے اور اس پر عملدرآمد کو جاری رکھنے کی کوشش میں ہے۔”
مزید برآں، اخبار کے مطابق، نیتن یاہو "دوسرے مرحلے کے بنیادی نکات پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ پہلے ہی ہم آہنگی قائم کر چکا ہے۔” تاہم، چونکہ حماس کے ان مطالبات کو قبول نہ کرنے کا قوی امکان ہے، "لہٰذا صیہونی ریاست پہلے مرحلے کو زیادہ سے زیادہ طول دینے اور اضافی قیدیوں کی واپسی کے لیے جنگ بندی میں توسیع کرنے کی کوشش کرے گی۔”