(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے کراچی پریس کلب کے بیک یارڈ میں "شہدائے فلسطین والقدس” کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر جاری مظالم کی مذمت کی گئی اور فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ سندھ اور ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی نے کہا کہ اسرائیل کا وجود امریکہ اور برطانیہ کی سرپرستی پر قائم ہے۔ انہوں نے فلسطین اور کشمیر کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر نہ کرنے والے حکمرانوں کو "ظالم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم شہدائے فلسطین اور مزاحمت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ رؤف صدیقی نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ آج تک فلسطین کے مسئلے پر ناکام رہا ہے اور خطے میں جاری بے امنی ایک دن عالمی سطح پر بھی اثرات مرتب کرے گی۔ انہوں نے غزہ کے بحران کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی برادری سے امداد کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی کے رہنما ڈاکٹر معراج الہدایٰ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "طوفان الاقصی” آپریشن کے 456 دن مکمل ہو چکے ہیں، مگر اسلامی مزاحمت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت بے نقاب ہو چکی ہے کہ کون ظالم کی صف میں ہے اور کون مظلوم کا ساتھی ہے۔ شہید حسن نصر اللہ، قاسم سلیمانی، اسماعیل ہانیہ اور یحییٰ سنوار جیسے رہنماؤں کے خون سے مزاحمت مزید مستحکم ہوئی ہے۔ یمنی حوثی بھی امت مسلمہ کا فخر بن چکے ہیں اور مزاحمت کا ایک اہم حصہ ہیں۔
جمیعت علماء اسلام کے رہنما قاری عثمان نے فلسطین کی موجودہ صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں بچوں، خواتین اور بوڑھوں کا خون بہایا جا رہا ہے، اور مسلم ممالک کے حکمران اس پر خاموش ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام سے امریکی اور اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔
مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ باقر عباس زیدی نے کہا کہ غزہ و کشمیر میں ظلم و ستم بڑھ چکا ہے لیکن مزاحمت آج بھی جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کا دو ریاستی حل ناکام ہو چکا ہے اور مظلوم فلسطینی میدان میں اپنی استقامت کے ساتھ موجود ہیں۔