(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی افواج کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے۔
فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران غزہ کے مختلف ہسپتالوں میں 63 شہداء کے جسدِ خاکی لائے گئے۔ ان میں سے 59 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں، جب کہ تازہ اسرائیلی حملوں میں مزید 4 فلسطینی شہید اور 8 شدید زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے مطابق، صیہونی جارحیت کے نتیجے میں 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 47,417 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 111,571 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بمباری اور حملوں کے باعث مزید کئی زخمی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور سڑکوں پر بھی بڑی تعداد میں لاشیں موجود ہیں جنہیں ایمبولینس اور سول ڈیفنس کے عملے کی رسائی نہ ہونے کے سبب ہسپتال منتقل نہیں کیا جا سکا۔
فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جنگی جرائم پر مبنی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے مسلسل بمباری، عام شہریوں کے قتلِ عام اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باوجود عالمی طاقتوں کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔
غزہ میں طبی سہولیات کی عدم دستیابی، خوراک کی قلت اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کے باعث لاکھوں فلسطینی موت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کر کے نہتے فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔