(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے ایک اسپتال پر اسرائیلی فوج کی جان حملے کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں مریض اور اسپتال کا عملہ شدید خطرے میں ہیں۔
کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسپتال کے تمام شعبے بشمول نرسری، مٹرنٹی اور آئی سی یو کو غاصب فوج نے نشانہ بنایا ہے، جس میں ٹینک کے گولے، سنائپر کی فائرنگ اور ڈرونز شامل ہیں۔ ڈاکٹر نے عالمی برادری سے اسپتال اور وہاں موجود 66 مریضوں کے تحفظ کی اپیل کی ہے۔
اس اسپتال میں کئی دنوں سے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کمی محسوس ہو رہی ہے، اور طبی امداد کے وسائل مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر ابو صفیہ نے بتایا کہ اسپتال کے مختلف حصوں پر ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک گولہ باری کی جارہی ہے، اور ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ حملہ ایک جان بوجھ کر اسپتال کی صحت کی سہولت پر حملہ کرنے کی کوشش ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہا کہ جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں، وہ ایک دانستہ حملہ ہے جس کا مقصد غزہ میں صحت کی سہولتوں کو تباہ کرنا ہے۔ اسپتال کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں اور عالمی برادری کو فوراً مداخلت کرنی چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔