اسرائیلی جیلوں کے اندر سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلا ہے کہ اسرائیلی داخلی سلامتی سے متعلق ایک خفیہ ادارے”شاباک” کے اہلکاروں نے مصری جزیرہ نماء سیناء سے ایک فلسطینی شہری کو اغواء کر کے جیل میں ڈال رکھا ہے۔
ظاہر کے مطابق مغوی فلسطینی کی طاہر عطوہ کے نام سے شناخت کی گئی ہے، جس کا تعلق فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سے بتایا جاتا ہے۔ طاہر کو اس انکشاف سے اٹھارہ روز قبل حراست میں لیا گیا تھا۔
عالمی یکجہتی سے متعلق تحقیقات کرنے والے ایک سماجی کارکن احمد البیتاوی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مغوی فلسطینی کا تعلق غزہ کی پٹی کے علاقے زیتون سے ہے۔ اسے اٹھارہ روز قبل صہیونی انٹیلی جنس حکام نے مصرسے ملحقہ جزیرہ نما ء سینا سے حراست میں لے کر ایلات کے علاقے میں تفتیشی ایجنسی شاباک کے حوالے کیا ہے۔
طاہر عطوہ کا کہنا ہے کہ اٹھارہ روز قبل اسے مصری جزیرہ نما سینا سے وہاں کے بدوؤں کےایک گروہ نے غزہ کے کئی دیگر شہریوں کے ہمراہ اغواء کیا، بعد ازاں مجھے ان سے الگ کر کے صہیونی انٹیلی جنس کے حوالے کر دیا گیا جبکہ بقیہ فلسطینیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ آیا انہیں بھی اسرائیلی فوج کے حوالے کیا گیا ہے یا انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔
احمد البیتاوی کا کہنا ہے کہ طاہرہ عطوہ نے جیل میں ان کے ایک نمائندے کو بتایا کہ اس پر اسرائیلی فوج کی جانب سے صہیونیوں کو اغواء کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطین کے مختلف مزاحمتی گروپوں سے تعلقات اور کئی دھماکوں میں بھی ملوث قرار دے کر ایک جعلی مقدمہ تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔