(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پر سخت سیکیورٹی پابندیاں نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لاکھوں فلسطینی مسجد اقصیٰ، جو کہ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، میں نماز ادا کرنے کے لیے آتے ہیں، خاص طور پر نماز جمعہ کے موقع پر۔
جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی حکومت کے ترجمان، ڈیوڈ منسر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ "ہر سال کی طرح، اس بار بھی عوامی سلامتی کے لیے معمول کی پابندیاں لاگو کی جائیں گی۔”
گزشتہ رمضان میں، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے 55 سال سے کم عمر مردوں، 50 سال سے کم عمر خواتین اور 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
اس سے قبل، عبرانی چینل 12 نے رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ رمضان المبارک کے دوران مسجد اقصیٰ میں نماز کی ادائیگی پر مزید سختیاں عائد کرے۔
چینل کے مطابق، اس سفارش میں مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کی تعداد چند ہزار تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اور پورے رمضان میں صرف 10 ہزار افراد کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
یہ سفارش غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی وزارت دفاع، پولیس، خفیہ ایجنسی "شاباک” اور محکمہ جیل خانہ جات کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے بعد دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ایک اور قدم کے طور پر، حال ہی میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیے گئے فلسطینی قیدیوں کو بھی رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
1967 میں بیت المقدس پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے قبضے کے بعد سے، غیر مسلموں کو مخصوص اوقات میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخلے کی اجازت دی گئی تھی، مگر انہیں وہاں عبادت کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ تاہم، دائیں بازو کی صیہونی حکومت اس قانون کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جسے فلسطینی عوام اور اردن کی وزارت اوقاف مسلمانوں کے جذبات کو اشتعال دلانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مسجد اقصیٰ میں ہونے والا کوئی معمولی واقعہ بھی فلسطینیوں اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بھڑکا سکتا ہے۔