(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ ) صیہونی زندان میں بغیر جرم اور بغیرعدالتی کارروائی کے قید حذیفہ حلابیہ کی والدہ نے اپنے بیٹے کی رہائی کیلئے اسرائیلی جیل کے باہر احتجاج کرتے ہئے کہا ہے کہ نظریئے کبھی نہیں مرتے، خون کے آخری قطرے تک فلسطین کی آزادی کیلئے لڑیں گے۔
صیہونی حکام کی جانب سے انتظامی قید کے تحت قید ہزاروں فلسطینیوں میں حذیفہ حلابیہ بھی شامل ہیں جن کو اسرائیل کے نیتزان جیل میں بغیر جرم کے قید کیا گیا ہے حذیفہ حلابیہ پرنا کوئی مقدمہ ہے اور نا کوئی شکایت اس کے باوجود اسرائیلی حکام نے ان کو قید کیا ہوا ہے اور وجہ انتظامی بتائی ہے۔
حذیفہ حلابیہ نے صیہونی حکام کی جانب سے انتظامی قید کے خلا ف احتجاجاً بھوک ہڑتال کی ہوئی ہے جو آج 50 ویں روز میں داخل ہوگئی ہے ، فلسطینی قیدیوں کی تفصیلات فراہم کرنے والے ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 50 روز سے کچھ کھائےبغیر حذیفہ حلابیہ کی حالت تشویشناک ہوگئی ہے جبکہ صیہونی حکام کی جانب سے بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کیلئے قیدیوں پر انسانیت سوز تشدد بھی کیا جارہا ہے۔
قیدی حذیفہ حلابیہ کی والدہ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے انسانیت سوز مظالم نظریے کو ہرگز تبدیل نہیں کرسکتے، یہ صیہونی ہم کو قتل تو کرسکتے ہیں لیکن ہمیں نظریے سے نہیں ہٹا سکتے، انھوں نےکہا کہ انسان مربھی جائے تو نظریے زندہ رہتے ہیں ہم خون کے آخری قطرے تک صیہونی مظالم کے خلاف اور فلسطین کی آزادی کیلئے لڑتے رہیں گے۔