(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) معروف اسرائیلی محقق، موشے بوزیالوف، نے غزہ کی پٹی میں حماس کی شکست کے بارے میں پھیلائے گئے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعویٰ قبل از وقت اور حقیقت کے برعکس ہے۔
اسرائیل کے”مسغاف” انسٹیٹیوٹ برائے قومی سلامتی میں سینئر محقق بوزیالوف نے معروف عبرانی اخبار معاریف میں اپنی تحریر میں وضاحت دی کہ "حماس کی شکست کا فیصلہ صرف حماس کے مرنے والوں کی تعداد یا غزہ میں تباہی کے حجم سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا فیصلہ اس بات پر ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل، حماس پر اپنی مرضی مسلط کر سکے اور اس کو ایک اسٹریٹجک خطرہ بننے سے روک سکے، اور اس کے اقتدار کو ختم کر دے۔”
بوزیالوف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے کو اچھی طرح سمجھا، اسی لیے انہوں نے غزہ کے باشندوں کو دنیا کے مختلف حصوں میں آباد کرنے کی منصوبہ بندی کی، جو ایک گہری اسٹریٹجک سوچ پر مبنی قدم تھا۔
اسرائیلی محقق نے "جنگ اور حکمت عملی” کے موضوع پر پروفیسر یہوشفات ہرکافی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کامیابی صرف مختصر مدتی فوجی حملوں یا سخت ضربوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اس کے لیے دو بنیادی پیمانے ہیں: ایک تو جنگ کے مقاصد کو حاصل کرنا اور دوسرا یہ کہ دشمن کو اس طرح بے اثر کرنا کہ وہ اب ایک بڑا اسٹریٹجک خطرہ نہ ہو سکے۔”
حماس ابھی تک اپنی قوت برقرار رکھے ہوئے ہے
بوزیالوف نے زور دے کر کہا کہ "حماس کی شکست کا اعلان کرنا صرف ایک خطرناک فریب ہے، کیونکہ اگرچہ حماس کو شدید ضربیں پہنچی ہیں، لیکن وہ اب بھی اپنے قیدیوں کو اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے اور غزہ میں اپنی سیاسی و سماجی طاقت برقرار رکھے ہوئے ہے، اس لیے حماس کو ابھی تک شکست نہیں ہوئی۔”
اس کے علاوہ، اسرائیلی محقق نے کہا کہ "غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوجی کارروائی نے حماس کی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ آیا حماس اب بھی ایک اسٹریٹجک خطرہ ہے یا نہیں۔”
حقیقت یہ ہے کہ حماس اب بھی راکٹ فائر کرنے، حملے کرنے اور غزہ کے عوام پر کنٹرول برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بوزیالوف نے مزید کہا کہ "حماس کا قیدیوں کو رہا نہ کرنا اور ہتھیار نہ ڈالنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حماس ابھی تک شکست سے دوچار نہیں ہوئی۔” ایک ایسی تنظیم جو اپنی موجودگی اور طاقت کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اسے محض جزوی فوجی اقدامات سے شکست نہیں دی جا سکتی۔ اس کے لیے ایک وسیع اور گہری حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
حماس کے خلاف حقیقی فیصلہ کن کارروائی کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت
بوزیالوف نے کہا کہ اگر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ واقعی حماس کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایک مضبوط فوجی دھمکی مسلط کرنی ہوگی تاکہ حماس کی قیادت یہ سمجھ سکے کہ ان کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے: غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی شرائط پر سر تسلیم خم کرنا۔ یہ محض مزید بمباری یا قتل عام نہیں بلکہ حماس کے لیے ایک ناقابل برداشت صورتحال پیدا کرنا ہوگا، جس سے ان کی حکومتی طاقت کمزور ہو اور اندر سے ان کا خاتمہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ابھی بھی اس مرحلے میں ہے جہاں حماس کے خلاف مکمل فتح کا دعویٰ کرنا خطرناک فریب ہے۔ "حماس کو شکست دینے کے لیے اسرائیل کو غزہ کی جنگ کے تمام اہداف حاصل کرنے ہوں گے: حماس کی فوجی اور سیاسی طاقت کو ختم کرنا، تمام قیدیوں کو آزاد کرنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا جہاں غزہ کبھی بھی غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک خطرہ نہ بن سکے۔ جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، حماس شکست سے دوچار نہیں ہوئی۔”