(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ میں صیہونی دہشتگردی روکنے دوسرے دن بھی جاری رہا، جہاں تمام علاقے میں سکون پایا گیا، اور اس دوران معاہدے کے تمام مراحل کی تکمیل کی توقع کی جارہی ہے، جس کے ذریعے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی قاتل مشینری کو مستقل طور پر بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
غزہ کے وسیع علاقے میں، جنگ بندی کے فوراً بعد، مہاجرین واپس اپنے گھروں کو لوٹ آئے، اور ان کی واپسی نے ان کے گھروں اور محلے میں ہونے والے بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کو آشکار کیا، مگر اس کے باوجود انہوں نے عزم کیا کہ وہ تباہ شدہ عمارات کے اوپر خیمے نصب کریں گے۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اتوار اور پیر کی رات کو عوفر جیل سے درجنوں فلسطینی قیدیوں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو رہا کیا۔ یہ رہائی حماس اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان ہونے والے وقفِ فائر کے معاہدے کے تحت پہلے مرحلے کا حصہ ہے۔
اتوار کی صبح، وقفِ فائر کا معاہدہ نافذ ہو گیا، جس کے پہلے مرحلے کی مدت 42 دن ہے۔ اس دوران، دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے۔
اس معاہدے کے پہلے مرحلے میں، حماس 33 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے گی، جو فلسطینی قیدیوں کے بدلے میں ہوں گے۔ اس کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد اس بات پر منحصر ہوگی کہ ہر اسرائیلی قیدی کا کیا موقف ہے، آیا وہ فوجی ہے یا "عام شہری”۔