(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے میڈیا نے غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے اپنے بنیادی مقصد، یعنی "اپنے وجود کو برقرار رکھنے اور غزہ میں کنٹرول قائم رکھنے” کو حاصل کر لیا ہے، جبکہ صیہونی ریاست اپنے مقاصد میں ناکام رہی ہے۔
صیہونی میڈیا کے تجزیہ کار تسفی یحزکیلی نے لکھا کہ اس معاہدے کی مشکل صرف قیدیوں کی رہائی نہیں ہے، بلکہ یہ سوال ہے کہ "اس معاہدے کے بعد کیا ہوگا؟” حماس غزہ کے انتظامی امور کو سنبھالے ہوئے ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ صیہونی ریاست نہ تو جنگ کے مقاصد کو حاصل کر سکی اور نہ ہی علاقے کے حالات کو تبدیل کر سکی۔ "یہ اسرائیل کی بدترین معاہدوں میں سے ایک ہے”
صیہونی ریاست کے داخلی سیکیورٹی ادارے "شاباک” کے سابق اہلکار، میخا کوبی نے کہا کہ یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے مثالی نہیں بلکہ اس کی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق صیہونی ریاست کے پاس اس معاہدے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صیہونی ریاست نہتے اسرائیلیوں کو قید سے بچانے میں ناکام رہی، اور اب اسے اپنی ناکامی کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
حماس کی کامیابی
میخا کوبی نے اعتراف کیا کہ حماس نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے صیہونی ریاست پر اپنی شرائط مسلط کر دیں اور مذاکرات کو طول دے کر اپنے منصوبے کے مطابق پیش رفت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کی کامیابی میں کلیدی کردار حماس کے رہنما محمد السنوار کا ہے، جو قیدیوں کی رہائی اور مذاکرات کی تمام حکمت عملیوں کے انچارج تھے۔
مغربی کنارے میں کشیدگی کا خدشہ
صیہونی میڈیا کے عسکری تجزیہ کار یوسی یہوشوا کے مطابق، اس معاہدے کے نتیجے میں مغربی کنارے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حماس معاہدے کو ختم کرتی ہے تو صیہونی ریاست کے پاس دباؤ ڈالنے کے لیے صرف عسکری طاقت کا راستہ باقی رہ جائے گا، جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بنے گا اور صیہونی ریاست کو مزید تنہا کرے گا۔