(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) یہودا کوہن، جو غزہ میں قید اسرائیلی نمرود کوہن کے والد ہیں، نے کہا ہے کہ وہ دی ہیگ میں یہ موقف اختیار کریں گے کہ "نتنیاہو نہ صرف غزہ میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے بلکہ اسرائیل میں بھی یہی اقدامات کر رہا ہے۔”
آج پیر کے روز، بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے مرکزی پراسیکیوٹر کریم خان کے ساتھ اپنی ملاقات سے متعلق، کوہن نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا: "میرا ارادہ ہے کہ دی ہیگ میں یہ کہوں کہ نتنیاہو نے جنگی جرائم صرف غزہ میں نہیں کیے بلکہ وہ اسرائیل میں بھی یہ جرائم انجام دے رہا ہے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم بھی اس بات سے واقف ہے کہ نتن یاہو معاہدے میں تاخیر کر رہا ہے۔ کوہن کے مطابق، نتنیاہو ایک جزوی معاہدے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ وہ غزہ میں جنگ جاری رکھ سکے۔
کوہن نے مزید کہا: "حکومت جنگ کے بعد کے دنوں کے بارے میں بات کرنا ہی نہیں چاہتی۔ سموتریچ اور بن گویر غزہ میں نئی بستیاں بسانا چاہتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ حکومت جنگ بندی پر بات چیت کرنے کی خواہشمند نہیں۔ وہ غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج کا مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔”
چند روز قبل، اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اطلاع دی کہ 112 اسرائیلیوں، جن میں سابق قیدی اور موجودہ قیدیوں کے اہل خانہ شامل ہیں، نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے۔ اس درخواست میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت میں ناکام رہی ہے اور غزہ میں قیدیوں کے مسئلے پر غفلت برتی ہے، جس سے بنیادی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ کی تنظیم نے نتنیاہو پر ان کے حالات سے بے پرواہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ "نتنیاہو جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا، بلکہ وہ جنگ جاری رکھنے کی مہم چلا رہا ہے۔”