اسرائیل نے سن 1967ء میں مغربی کنارے اور القدس پر قبضہ کرنے کے بعد سے اب تک تمام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہاں ڈیڑھ سو سے زائد یہودی بستیاں تعمیر کرلی ہیں اور یہ سلسلہ تاھنوز جاری ہے۔
جمعرات کے روز مغربی کنارے کے شہر نابلس میں انتہاء پسند یہودیوں نے زعترہ چیک پوسٹ کے قریب ایک نئی آبادی کی تعمیر شروع کردی، ایک روز قبل اسی مقام پر ایک یہودی کو قتل کردیا گیا تھا۔ فلسطینی کے ہاتھوں یہودی کے قتل کا انتقام لینے کے لیے یہودی آباد کاروں نے اس نئی بستی کا نام بھی مقتول یہودی کے نام پر ’’افیتار‘‘رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
مغربی کنارے کے شمالی علاقوں میں یہودی آباد کاری پر نظر رکھنے والے غسان ڈگلس نے بتایا کہ جمعرات کے روز درجنوں غاصب یہودیوں نے بیتا ٹاؤن کے اس مقام پر اپنے ایک سے دوسری جگہ منتقل ہو جانے والے گھروں لانے شروع کر دیے۔ ان موبائل گھروں میں بجلی کی سہولت بھی فراہم کر دی گئی ہے۔
غسان ڈگلس نے بتایا کہ بیتا ٹاؤن کی جس اراضی پر یہودی گھر لائے گئے ہیں وہ فلسطینی خبیصہ خاندان کی ہیں۔ ڈگلس نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ اقدام یہودی بستی ’’یتسھار‘‘ کے آباد کاروں کے مطالبے پر اٹھایا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
