عرب لیگ کے ذیلی ادارے برائے”تعلیم، سائنس وثقافت”[الیسکو] نے مسجد اقصٰی کے خلاف یہودیوں کی تازہ سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں قبلہ اول پر قبضے کی صہیونی سازشوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
‘الیسکو’ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے قبلہ اول اور دیگر تمام مقدس مقامات کے تحفظ کے حوالے سے اقوام متحدہ اور "یونیسکو” کے وضع کردہ قواعد اور حدود پامال کی جا رہی ہیں۔
عالمی اداروں نے یہ حقیقت تسلیم کر رکھی ہے کہ مسجد اقصیٰ پر صرف مسلمانوں کا حق ہے اور یہ مسلمانوں ہی کی تاریخی مذہبی وراثت ہے جس پر کسی دوسرے مذہب اور قوم کو تسلط قائم کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق تیونس میں قائم”الیکسو” کے صدر دفتر سے جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مسجد اقصی کے خلاف یہودیوں کے تازہ حملے کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہیں۔ تازہ جارحیت مسجد اقصیٰ کی دیوار براق کے ساتھ ایک اسٹیج کی شکل میں کی گئی ہے۔ ان تمام سازشوں کا مقصد پوری مسجد اقصٰی بالخصوص مراکشی دروازے کے بقیہ حصے پریہودیوں کا مستقل طورپر قبضہ کرنا ہے۔ یہودیوں کا یہ طرز عمل شہرمیں موجود اسلامی اور مسیحی آثار قدیمہ کے تقدس کی کھلی پامالی ہے۔
"الیسکو” نے عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم، اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصٰی کو درپیش خطرات کی روک تھام کے لیے بروقت کارروائی کریں اور یہودیوں کے ہاتھوں قبلہ اول کو پامال نہ ہونے دیں۔ یہودی حکومت انتہا پسندوں کی آڑ میں قبلہ اول کو یرغمال بنانا چاہتی ہے جو کہ ناقابل قبول اقدام ہے۔
شہر میں موجود مقدس اسلامی اور مسیحی مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے "یونیسکو” نے بھی اٹھا رکھی ہے لیکن یہ دونوں ادارے اپنی ذمہ داریوں سے احسن طریقے سے عہدہ برآ ہوتے دکھائی نہیں دے رہیں جس کے نتیجے میں یہودیوں کو کھلی چھٹی مل چکی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
