فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں قائم یہودی کالونیوں، صہیونی کارخانوں اور دیگر تنصیبات فلسطینی آبادی کے لیے ہمہ نوع مسائل کا موجب ہیں۔ ان کالونیوں اور کارخانوں سے فلسطین میں پانی، ہوا حتیٰ کہ اجناس تک زہر آلود ہونے لگی ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مغربی کنارے کے شمالی علاقے "سلفیت” میں قائم ارئیل یہودی کالونی نے شہر کا پانی، ہوا اور ہر چیز کو زہرآلود کر دیا ہے۔ کالونی میں قائم کارخانوں سے نکلنے والے فضلے اور چمنیوں سے نکلنے والے دھوئیں نے کفر الدیک اور برقین کے قصبات کا پانی اور ہوا بری طرح متاثر کر رکھے ہیں۔
فلسطینی تجزیہ نگار خالد معالی نے "مرکز اطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ فلسطینی شہریوں کے مویشی زہرآلود پانی پینے اور خوراک کھانے کے باعث دودھ اور گوشت کے ذریعے یہ زہر انسانوں میں منتقل کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ارئیل کالونی میں چار بڑے کارخانے چل رہے ہیں۔ ان سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی اور فضلہ زمینی اور پانی کی آلودگی کا موجب بن رہا ہے۔ معالی کا کہنا ہے کہ صہیونی حکام کی جانب سے دانستہ طور پر فلسطینی آبادیوں کو ماحولیاتی تباہی سے دوچار کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ صہیونی حکام کی لاپرواہی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قابض اسرائیل عمدا فلسطینی شہریوں کو کارخانوں کے ذریعے ان کی زندگیوں میں زہر پھیلا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
