اسرائیلی حکومت کے نائب وزیربرائے مذہبی امورنے انتہا پسند یہودیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ میں اجتماعی عبادات کی ادائیگی کی تیاری کریں۔ صہیونی نائب وزیر نے انتہا پسندوں کو یہ مشورہ ایک ایسے وقت میں دیاہے جب صہیونی پولیس نے بعض یہودی شخصیات کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روک دیا تھا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی نائب وزیر”بن ڈھان” نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ "یہودیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے سے کیسے روکا جاسکتا ہے۔ مسجد اقصیٰ میں داخلے سے یہودیوں کو روکنا اسرائیل میں داخلے سے روکنا ہے۔ انہیں معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے یہودی آباد کاروں اور بعض سیاسی رہ نماؤں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے اور عبادت کی ادائیگی سے روکا ہے۔ میں یہودیوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے تمام کوششیں جاری رکھوں گا۔ میں تمام مذاہب کے درمیان مساوات کا قائل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرا عقیدہ ہے کہ مسلمانوں کے اس قبلہ اول کی جگہ یہودیوں کے ہیکل سلیمانی کا مقام ہے، جسے یہود پوری دنیا میں اپنا مقدس ترین مقام سمجھتے ہیں”۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز اسرائیل کے نائب وزیرخارکہ "زیو الکن” کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کے فوری بعد صہیونی پولیس نے وہاں سے جلدی میں نکال دیا تھا۔ صہیونی نائب وزیر کے داخلے کے بعد وہاں پر ہزاروں فلسطینی شہریوں نے مظاہرہ کیا جس کے بعد پولیس کو نائب وزیر کو وہاں سے نکالنا پڑا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
