فلسطین کی بائیں بازو کی ایک سیاسی جماعت نیشنل پروگریسیو پارٹی کے سربراہ اور رکن قانون ساز کونسل مصطفیٰ البرغوثی نے اس سیاہ قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی حکومت نے اسرائیل کو یہودیوں کا قومی ملک قرار دے کرنسلی عصبیت اور نسل پرستی کی آخری حد پار کرلی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کی منظوری کے بعد اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہوگا جس کی بنیاد محض نسلی عصبیت اور ایک مخصوص گروپ کی نسل پرستی پر رکھی جائے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مصطفیٰ البرغوثی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاھو کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کو یہودیوں کی قومی ریاست قرار دینے کے کالے قانون کی منظوری کے بعد صہیونی ریاست پوری دنیا میں ننگی ہوگئی ہے۔ اس نے اب تک جمہوریت کا جو نام نہاد لبادہ اوڑھ رکھا تھا، اس قانون کی منظوری کے بعد وہ خود ہی اتار پھینکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت کی جانب اسرائیل کو ایک یہودی قومی ریاست قرار دینا کوئی اچنھبے کی بات ہرگز نہیں ہے کیونکہ صہیونی ریاست عملا پہلے ہی نسل پرستی اور نسلی تعصب کی پرعمل پیرا ہے۔
جمہوریت محض ایک استعارہ تھا اور ایک پردہ تھا عملا اسرائیل نسلی عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی میں پیش پیش رہا ہے۔ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہی اس کے نسل پرستانہ رویے کا برملا اظہار تھی۔
مصطفیٰ البرغوثی کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کی جانب سے یہودی قومی ریاست جیسے ایک متنازعہ قانون کی منظوری سے خود صہیونی ریاست کو دنیا بھر میں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس قانون کی دنیا بھر کی جانب سے مذمت کی جا رہی ہے اور اس کے بعد تل ابیب عالمی سطح پر تنہا ہو کر رہ گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کے جائز مطالبات کے حوالے سے عالمی برادری کی حمایت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی حکومت نے کئی سال سے زیربحث ایک متنازعہ قانون کی منظوری دی جس کے تحت اسرائیل کو یہودیوں کا قومی ملک قرار دیا گیا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد خود اسرائیلی حکومت کو اپنے اتحادیوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
