اسرائیلی فوج کے عرب بھیس دھارنے والے خصوصی یونٹ کے اہلکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سلوان میں ایک یہودی کالونی کے قریب کھڑا ہونے کی پاداش میں فلسطینی نوعمر لڑکوں اور دیگر شہریوں پر دھاوا بول دیا۔
بستی کے یہودیوں کے طیش دلانے پر خصوصی یونٹ کے اہلکاروں نے پہلے ان افراد کو بہیمانہ انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کر دیا۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ کارروائی کے دوران اسرائیلی اہلکاروں کی بڑی تعداد سلوان کی شاہراہوں پر گشت کرتی رہی۔
ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے نوعمر لڑکوں میں پندرہ سالہ محمد عباسی، سترہ سالہ خلیل ابو سند اور سترہ سالہ محمود سرحان شامل ہیں۔ وادی حلوہ مطالعاتی مرکز نے اسرائیلی فورسز کی کارروائی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی لڑکے سلوان کے علاقے ”العین ” میں موجود تھے کہ ان پر دھاوا بول دیا گیا، خصوصی یونٹ کی اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے علاقے کی مرکزی شاہراہ بلاک کر دی اور اہل علاقہ کی آمد و رفت بھی روک دی جس سے گرفتار کیے جانے والے افراد کی درست تعداد معلوم ہو سکی نہ انکی شناخت، تاہم ان گرفتار شہریوں میں چار اٹھارہ سال سے کم عمر کے لڑکے بھی شامل ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ عرب لبادے میں ملبوس خصوصی یونٹ کے اہلکار ایک جانب فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے تھے تو دوسری جانب قریبی یہودی بستی ”بیت میوحس” کے آبادکار ان اہلکاروں کو مزید تشدد کی ترغیب دے رہے تھے۔ اس دوران بہت سے یہودیوں نے اسرائیلی اہلکاروں کو زیر عتاب فلسطینیوں کو جان سے مارنے پر بھی اکسایا۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ لڑکے یہودی بستی کے قریب کھڑے تھے ، قریب ہی اسرائیلی فوج کے خصوصی یونٹ کی گاڑی بھی موجود تھی، اچانک اسرائیلی اہلکاروں نے گاڑی سے نکل کر ان فلسطینیوں پر حملہ کر دیا۔
دوسری جانب اسرائیلی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے سلوان سے چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے چار بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی پولیس کا دعوی ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد یہودی بستی ”بیت میوحس” پر پٹرول بم پھینک رہے تھے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
