• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

یہودی آباد کاروں کا کم سن فلسطینیوں سےغلاموں جیسا سلوک: ہیومن رائٹس واچ

منگل 14-04-2015
in فلسطین
0
plf slave-like
0
SHARES
0
VIEWS

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کم عمربچوں کے ساتھ اسرائیل اور یہودی آباد کاروں کے غیر انسانی سلوک سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ یہودی آباد کار فلسطینی بچوں سے جبری مشقت لیتےہیں اور ان کے ساتھ غلاموں جیسا ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے فلسطین میں اسرائیلی حکومت، فوج اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے ساتھ برتے جانے والے نسل پرستانہ سلوک پرمبنی 74 صفحات کو محیط ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 15 سال سے کم عمرکے بچوں کو یہودی آباد کار اپنی کالونیوں میں کام کاج کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کم عمرافراد سے جبری مشقت عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اسرائیل میں اس خلاف ورزی کا ارتکاب ہرسطح پر دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہودی آباد کار کم عمرفلسطینیوں سے دن بھرسخت مشقت کراتے ہیں اور اس کے بدلےمیں انہیں نہایت کم اجرت دی جاتی ہے۔ بہت سےبچوں کو محض ایک وقت کے کھانے کے عوض پورا پورا دن مشقتی کے طورپر استعمال کیاجاتا ہے۔ رپورٹ میں ایسے 40 فلسطینی بچوں کے انٹرویوز کیے گئے ہیں جنہیں یہودی آباد کاروں کی جانب سے مبینہ طورپر مشقتیوں کے طورپر استعمال کیا گیا اور ان کے ساتھ غلاموں جیسا نہایت ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر فلسطینی بچے مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں کے یہودی کاشت کاروں کے لیے نہایت سستی لیبر ہیں۔ یہودی پورا پورا دن بچوں سے کام لیتے لیکن اس کے بدلے میں نہایت معمولی اجرت دی جاتی ہے جوکہ انسانی حقوق اور بین الاقوامی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مسلسل مطالبات کےباوجود اسرائیلی حکومت اور یہودی آباد کار فلسطینی بچوں کو مشقتی کے طورپر استعمال کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی کالونیوں میں محنت مشقت کرنے والے فلسطینی بچوں کی عمریں 11 سے 15 سال کےدرمیان ہوتی ہیں۔ سخت گرمی میں وہ پورا پورا دن کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کی طاقت سے بڑھ کران پر بوجھ لادا جاتا ہے۔ بیماری کی حالت میں انہیں علاج کی سہولت بھی میسر نہیں ہوتی اور کام کے دوران زخمی ہونے پراپنا علاج بھی انہیں اپنی جیب سے ہی کرنا پڑتا ہے۔

بچوں سے مشقت، انسانی حقوق کی سنگین پامالی

ہیومن رائٹس واچ کی مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کے لیے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ لیا ویٹسن کا کہنا ہے کہ ’’ہم پچھلے کئی سال سے یہ بات نوٹ کرتے آ رہے ہیں کہ اسرائیل میں فلسطینی بچوں کو مشقتی کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے۔ کم عمر فلسطینیوں کے ساتھ غلامانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ فلسطین کے نہایت غریب خاندان اپنے بچوں کو یہودیوں کےہاں کام کاج کے لیے بھیجنے پرمجبور ہیں مگر اس کے بدلے میں یہودی آباد بچوں کے ساتھ نہایت ظالمانہ سلوک کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قوانین کی رو سے کسی عمرکے افراد سےمشقت لینا غیرقانونی ہے۔ بچوں کا معاملہ زیادہ نازک اور حساس ہے لیکن اسرائیل میں بچوں کے حقوق کی کھلے عام پامالیاں کی جاتی ہیں۔ بچے اسکول چھوڑ کرکام کاج پرمجبور ہوتے اور یہودی آباد کار ان کی مجبوری کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ نے  وادی اردن میں سات یہودی کالونیوں میں کام کرنے والے 38 بچوں اور 12 بالغ افراد سے انٹرویوز کیے۔ ان سب کی حالت نہایت ناگفتہ بہ تھی۔ بچوں کو دن کے وقت کام کاج کے دوران کھانا فراہم کرنا تو دور کی بات انہیں پانی تک مہیا نہیں کیا جاتا۔

فلسطینیوں کی کاشت کاری پرقدغنیں

مقبوضہ مغربی کنارا اور وادی اردن فلسطین کے زرخیز اور زرعی پیداوار کے اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ اسرائیل جہاں ایک طرف فلسطینی بچوں کو یہودیوں کے زرعی فارمز ہائوسز میں مشقتی کے طورپر استعمال کرتا ہے وہیں فلسطینیوں کے لیے کاشت کاری پرطرح طرح کی پابندیاں بھی عاید کی جاتی ہیں۔

عالمی بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے اور غرب اردن میں صرف زرعی محصولات سالانہ 700 ملین ڈالر سے تجاوز کرسکتے ہیں مگر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو اپنے طورپر کاشت کاری کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کی جانب سے فلسطینی زراعت پر عاید قدغنوں کے نتیجے میں علاقے میں غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق وادی اردن میں اس وقت غربت کی شرح 33.5 فی صد ہے۔ بعض فلسطینی یہودی آباد کاروں سے اراضی اجرت پرلے کراس میں کاشت کاری کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کو آب پاشی کے لیے پانی کے کنوئوں تک رسائی نہیں دی جاتی جس کے نتیجے میں ان کی کاشت کاری کی کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

اس کے مقابلے میں یہودی آباد کاروں کو اپنے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کی وافر مقدار مہیا کی جاتی ہے۔ حالانکہ جنیوا معاہدے کی رو سے اسرائیل پانی اور قدرتی وسائل میں فلسطینیوں کو برابر حصہ فراہم کرنے کا پابند ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں نہ صرف یہودی آباد کار فلسطینی بچوں سے جبری مشقت لیتے ہیں بلکہ فلسطینیوں کی زرعی اراضی کا ایک بڑا حصہ بھی غصب کیا جا چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے اور وادی اردن کے 86 فی صد زرعی رقبے پر یہودی آباد کاروں کا قبضہ ہے اور فلسطینیوں کو اپنی ہی اراضی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.