اسرائیل کے عبرانی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے چند ہفتے قبل رام اللہ کے قریب فلسطینیوں کی غصب کی گئی اراضی پرمکانات کی تعمیر شروع کی۔ بعد ازاں اسے”ملاخی شالوم” کالونی کا نام دیا گیا۔ اب اس غیرقانونی یہودی بستی میں کئی مکانات بنائے جا چکے ہیں جہاں درجنوں یہودی خاندان آباد ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس خود ساختہ یہودی کالونی کو پانی اور بجلی کی مفت سہولت مہیا کی ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی مذکورہ اراضی پرپہلے یہودی فوجیوں نے قبضہ کیا جسے ایک فوجی کیمپ کے لیے مختص کردیا گیا تھا۔ تاہم یہ جگہ کئی سال سے خالی پڑی تھی اور اس میں کئی سال پہلے بنائے گئے مکان بھی خالی تھی۔چند ہفتے قبل یہودی آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کے ساتھ مل کر وہاں پر تعمیرات شروع کیں۔ صہیونی فوجیوں کی جانب سے نہ صرف وہاں پر تعمیرات کی غیرقانونی اجازت دی گئی بلکہ وہاں پر مقیم یہودیوں کو پانی، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولتیں بھی مفت میں فراہم کی ہیں۔
اس چھوٹی کالونی سے کچھ ہی فاصلے پر اسرائیل کی "شیلو” نامی کالونی سنہ 1990 ء کے اوائل میں قائم کی گئی تھی جس میں سیکڑوں مکانات تعمیر کیے گئے۔ قابض فوج کی جانب سے یہودیوں کو خود کالونی بنانے کی اجازت دینا اور انہیں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیت مہیا کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قابض فوج بھی غیرقانونی توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں برابر ملوث ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
