فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں "بیت ایل” یہودی کالونی کےدرجنوں انتہا پسندوں نے فلسطینیوں شہریوں کے قتل اور ان کی جلا وطنی کے حق میں ایک احتجاجی جلوس نکالا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ غاصب انتہا پسند یہودیوں نے ہاتھوں میں اسرائیلی پرچم کتبے اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں، مسلمانوں اور عربوں کے خلاف نسل پرستانہ نعرے درج تھے۔ یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کو قتل کرنے یا انہیں فلسطین سے نکال باہر کرنے کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔
عینی شاہدین کے مطابق قابض فوج اور پولیس کی جانب سے یہودی شرپسندوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ یہودیوں کے احتجاجی جلوس کے دوران بیت ایل اور اس کے گردو نواح کے مقاما پر اسرائیلی فوج نے ناکے لگا کر تمام داخلی اور خارجی راستےبند کر رکھے تھے۔ بیت ایل یہودی کالونی کے قریب سے گذرنے والی تمام فلسطینی ٹریفک کو بلاک کیا گیا تھا اور فلسطینیوں کی کاروں کی جامہ تلاشی لی جا ری تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے پرتشدد اور اشتعال انگیز مظاہرے کے بعد فلسطینی شہریوں میں سخت غم وغصہ کی فضاء پائی جا رہی ہے۔ مقامی فلسطینی آبادی نے رام اللہ حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے اور بیت المقدس میں یہودی انتہا پسندوں کے اشتعال انگیز جلوسوں پر پابندی عائد کرے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
