مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقامی ذرائع کے مطابق نذرآتش ہونے والے چرچ کی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں اس کے اندر ہونے والی تباہی کا اندازہ لگایا سکتا ہے۔ چرچ کے اندر رکھی مذہبی کتب بھی جل کرخاکستر ہوگئیں۔
عینی شاہدین کا کہنا نذرآتش کیے گئے چرچ کی بیرونی دیواروں پر عبرانی زبان میں نسل پرستانہ نوعیت کے نعرے بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو یہودیوں کی نہیں اسے تباہ کرنا جائز ہے۔ اس کے علاوہ "غیروں کے مقابلے میں یہودی طاقت ور ہیں” جیسے نعرے تحریر کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں مساجد اور عیسائی عبادت گاہوں پریہودی اشرار کے حملے روز کا معمول ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے کے دوران یہودی انتہا پسند کئی مساجد اور چرچوں کو نذرآتش کرچکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس کی جانب سے عموما اس نوعیت کے کیسز کی فوری تحقیقات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن آج تک کسی شدت پسند کو مذہبی مقامات پرحملوں کے جرم میں سزا نہیں دی گئی حالانکہ مجرم کھلے عام دنداتے پھرتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
