مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں نے جنوبی شہر بیت لحم میں فلسطینی باغات پر حملہ کر کے دو سو زیتون کے درخت اکھاڑ پھینکے۔ فلسطینیوں کے خلاف ’’انتفاضۃ کے پتھر‘‘ کے عنوان سے مہم شروع کرنے کی اپیل بھی کی۔
یہودی بستیوں کی قومی کمیٹی کے ڈائریکٹر احمد صلاح نے بیت لحم کے خضر ٹاؤن میں کہا کہ یہودی بستی ’’دانیال‘‘ کے آباد کاروں نے علی الصبح ٹاؤن کی اراضی پر حملہ کیا اور الصوافہ علاقے اراضی پر کھڑی فصلوں کو تباہ کرنا شروع کر دیا، اس دوران دو سو سے زائد زیتون کے درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا۔
احمد صلاح نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے الخضر ٹاؤن کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے لکھ دیے ہیں جن میں فلسطینی گاڑیوں پر پتھراؤ کرنے کی بھرپور ترغیب دی گئی ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے جلیل القدر پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام کے نام سے منسوب ایک حوض کو یہودی آباد کاروں کی زیارت کے لیے کھول دیا ہے۔ اس ’’حوض سلیمان‘‘ کو بیس سالوں میں سن 1993ء کے اوسلو معاہدے کے وقت سے اب تک پہلی مرتبہ یوں زیارت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اتوار کے روز تین ہزار یہودی اس حوض کی زیارت کے لیے علاقے کا دورہ کرینگے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
