مسجد اقصی میں موجود نمازیوں نے انتہاء پسند یہودیوں کے ایک حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ انتہاء پسند یہودیوں کی ایک ٹولی جیسے ہی مسجد میں گھسی تو وہا٘ں موجود نمازیوں نے انہیں زبردستی باہر نکال دیا، ادھر قبلہ اول کے السلسلہ دروازے پر بھی بڑی تعداد میں یہودی جمع ہو گئے اور انہوں نے یہاں پر رقص و سرور کی محفل منعقد کی۔ اس یہودی اشتعال انگیز کارروائی کو موقع پر موجود اسرائیلی پولیس خاموشی تماشائی بنی دیکھتی رہی۔
ادھر القدس میں اوقاف اسلامی کے ڈائریکٹر جنرل شیخ عزام الخطیب نے وزیر اوقاف کو اپنے پیغام میں مسجد اقصی کیخلاف اسرائیلی پولیس کی جارحیتوں سے خبردار کیا ہے۔ شیخ عزام الخطیب نے بتایا کہ اسلحہ سے لیس اسرائیلی پولیس اہلکار صبح سے ہی مسجد میں موجود تھے اور ان کی نگرانی میں 134 انتہاء پسند یہودی مسجد میں داخل ہوئے اور مسجد میں دندناتے رہے جو انتہائی خطرناک ہے۔ اسرائیلی پولیس کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں یہودیوں کو قبلہ اول میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے مسجد اقصی میں موجود نمازیوں میں شدید اشتعال پھیل گیا، ماہ صیام کے پہلے دور روز کے دوران مسلسل متشدد اور انتہاء پسند یہودیوں کو مسجد اقصی میں داخل کر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسرائیلی پولیس اور اس کے اعلی عہدیدار سے رابطہ کرکے رمضان المبارک کے مہینے میں یہودیوں کو اس طرح مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر تنبیہ کی ہے اور انہیں بتایا ہے کہ یہودیوں کے مسجد اقصی میں داخلے کے نتائج کی ذمہ داری پولیس پر ہی عائد ہو گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
