فلسطینی سیاسی اسیران کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ادارے یوفری نیٹ ورک نے مصری حکام کی جانب سے 2 جولائی 2013 سے فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعہ کے روز جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز میں یوفری نے یونیورسل ڈیکلیریشن برائے انسانی حقوق اور سول اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدوں کے تحت حاصل نقل و حرکت کی آزادی کے حق کے احترام پر زور دیا ہے۔
اس حوالے سے نیٹ ورک نے مصر میں فلسطینیوں کی غیر قانونی حراستوں اور حالیہ دنوں میں ملک بدری کے لئے استعمال ہونے والے کمروں کے کثرت استعمال کی سخت مذمت کی ہے۔
یوفری نے پانچ دنوں میں قاہرہ ائرپورٹ پر غیر انسانی حالات میں حراستوں کے درجنوں کیس ریکارڈ کئے ہیں۔ فلسطینیوں کو ایسے کمروں میں رکھا جاتا ہے جہاں ملزمان اور جرائم پیشہ افراد کو رکھا جاتا ہے اور انہیں وہاں پر بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
ایک فلسطینی صحافی جنہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی درخواست کی ہے، نے یوفری کو بتایا ہے کہ انہیں 15 فلسطینیوں اور 40 مصریوں کے ہمراہ ایک بہت چھوٹے کمرے میں 10 گھنٹوں سے زائد عرصے کے لئے قید رکھا گیا تھا اور وہاں پر ان کے ساتھ قیدیوں جیسا رویہ روا رکھا گیا تھا۔
صحافی نے مزید بتایا ہے کہ ائیرپورٹ پر موجود مصری حکام نے مستقل رہائش رکھنے والے فلسطینیوں کو دوسرے ممالک میں ڈی پورٹ کردیا تھا جبکہ باقی تمام افراد کو دھمکیوں اور حملوں کے خدشات کے درمیان قید رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق قاہرہ ائیرپورٹ کے ڈیپورٹیشن روم میں قید افراد میں سے دو فلسطینی یمن کی جانب سفر کرنے، ایک فلسطینی اردن اور تین فلسطینی تیونس کی جانب سفر کرنے میں کامیاب ہوگئے جبکہ باقی رہ جانے والے افراد نے مصری حکام کی جانب سے اپنے ساتھ برا سلوک روا رکھنے پر بھوک ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔
مصری حکام نے مصری حدود میں ویزا رکھنے والے فلسطینیوں سمیت کسی بھی فلسطینی کا داخلہ بند کردیا ہے۔ عمرہ کے لئے جانے والے سینکڑوں افراد سعودی عرب میں پھنس گئے ہیں کیونکہ مصری حکام نے ان کو غزہ میں واپسی کے لئے راستہ دینے سے انکار کردیا ہے۔
یوفری نیٹ ورک نے مصری حکام سے فلسطینیوں کے خلاف ڈیپورٹیشن اور ڈیپورٹیشن کی پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
