یورپ اور دنیا کے دیگر ممالک میں فلسطینیوں کے حقوق کے لیےکام کرنے والے انسانی حقوق کے گروپوں کے اتحاد‘‘یورپی مہم’’ کے زیراہتمام
یورپ کے مختلف ملکوں میں فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور نسلی دیوار کے خلاف ایک آگاہی مہم شروع کی جا رہی ہے۔ مہم میں انسانی حقوق کے دسیوں گروپ حصہ لے رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق‘‘یورپی اقدام برائے انسداد یہودی آباد کاری و نسلی دیوار’’ کے سیکرٹری جنرل امین ابو راشد نے اتوار کو ہیگ میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کی مہم کا دائرہ کار فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے اور سنہ 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کےا ندر ہونے والی یہودی آباد کاری اور یہودی کالونیوں کے تحفظ کے لیے تعمیر کردہ نسلی دیوار کےخلاف ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس مہم کا عنوان اس کی مناسبت سے‘‘ یہودی بستیاں اور نسلی دیوار نا منظور’’ رکھا گیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کے گروپوں کے اتحاد نے بتایا کہ وہ یورپی ملکوں میں اگلے کچھ عرصے کے دوران بڑے پیمانے پر ایک آگاہی مہم شروع کریں گے۔ اس مہم کے تحت فلسطین میں اسرائیل کی جاری یہودی آباد کاری اور نسلی دیوار کےخلاف سیمینارز، کانفرنسیں، جلسے جلوس اور یاداشتیں پیش کی جائیں گی۔ اس سلسلے میں سماجی رابطے کی ویب سائیٹس کو بھی اپنی مہم کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
دوسرے سوال کے جواب میں امین ابو راشد کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلسطین میں یہودی بستیوں اور نسلی دیوار کےخلاف مہم کے کے لیے اس وقت کا انتخاب اس لیے کیا ہے کیونکہ آج سے ٹھیک آٹھ سال قبل ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے فلسطینی آبادیوں کے درمیان انہیں حصوں بخروں میں تقسیم کرنے والے یہودی دیوار کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ ہم عالمی عدالت انصاف سمیت دنیا بھر کی بڑی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی یہ یاد دلائیں گے وہ اپنی قراردادوں اور فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں تاخیر کا مظاہرہ کیوں کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں تعمیر کی گئی یہودی کالونیوں کو فلسطینیوں کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک دیوار کی تعمیر شروع کر رکھی ہے۔ فلسطینی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس دیوار کو صہیونی نسل پرستی کا مظہر قرار دے کر اس کی مسماری کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔ اس دیوار کو نسلی دیوار اس لیے بھی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دیوار کی تعمیر نے جہاں غاصب یہودیوں کو اگر تحفظ فراہم کیا ہے تو ہیں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق بھی سلب کرلیے گئے ہیں۔ نسلی دیوار کی تعمیر سے مغربی کنارے کے شہریوں کا جینا دو بھر کر دیا گیا ہے
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
