مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین میں سرکاری سطح پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ فرانس کی متعدد تعمیراتی فرمیں بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اعلانیہ یہودی توسیع پسندی کے منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔
تنظیم آزادی کے زیرانتظام نیشنل ڈیفنس برائے اراضی و مزاحمت کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی ممالک کا فلسطین میں اسرائیل کی یہودی آباد کاری کی مخالفت پر مبنی موقف یورپ کے دوغلے پن کا مظہر ہے کیونکہ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ بیت المقدس میں فلائی اوور ریلوے ٹریک کے منصوبے کے لیے اسرائیل کی بیت المقدس کی بلدیہ نے فرانسیسی تعمیراتی کمپنی ’’سافیگ‘‘ سے معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے میں فلسطین کے کئی شہروں میں یہودی توسیع پسندی کی سرگرمیوں میں ملوث’’العاد‘‘ نامی تنظیم بھی شامل ہے۔ مذکورہ تنظیم فلسطین میں یہودی آباد کاری کے حوالے سے بدنامی کی حد تک مشہور ہے۔
منصوبے کے فرانسیسی کمپنی نہ صرف مسجد اقصیٰ کے قریب فلائی اور ریلوے ٹریک تعمیر کرے گی بلکہ چار اہم اور حساس مقامات پر یہودی عبادت گاہوں کی تعمیر کے ٹھیکے بھی اسی کمپنی کو دیے گئے ہیں۔
فرانس ہی کی ایک دوسری فرم Porma بھی بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے متعدد منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔ اس کمپنی کے اسرائیلی تعمیراتی فرمک’’پارٹو گروپ‘‘ کے ساتھ شراکت بھی ہے۔ پورما نے اسرائیل کی القدس ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور العاد کے زیراہتمام چلنے والے کئی منصوبوں کو بھی چلا رہی ہے۔
بیت المقدس میں ’’شہر دائود‘‘ پروجیکٹ، نیشنل گارڈن اور کئی سڑکوں کے منصوبے بھی فرانسیسی کمپنیوں کو دیے گئے ہیں۔ ان میں ایک تعمیراتی منصوبہ مسجد اقصیٰ کے باب الرحمہ سے شروع ہو کر تاریخی مقام جبل زیتون تک جاتا ہے۔ یہ منصوبہ اگلے دو سال میں پایہ تکمیل کو پہنچے گا جس کا تخمینہ 100 ملین ڈالر لگایا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
