اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے تحقیقاتی پینل نے اپنی رپورٹ میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کو فی الفور روک دے اور وہاں بسائے گئے قریباً 5 لاکھ یہودی آبادکاروں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرے۔
بین الاقوامی ادارے کی اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد یورپ کی جانب سے بھی صہیونی ریاست پر اس حوالے سے دبائو بڑھ گیا ہے۔
یورپین اقدام نے اس رپورٹ کی اہمیت کے مدنظر اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اسے عملی جامہ پہنائے۔ یورپی کوشش کے سربراہ امین ابو راشد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ سے صہیونی ریاست کے آبادکاری کے اقدام کا غیر قانونی ہونا بالکل واضح ہوگیا ہے۔ فلسطینیوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ عالمی قوانین کے بھی خلاف ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس کی تصریح کی گئی ہے، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عملی اقدام کے بغیر صرف رپورٹوں سے اسرائیل اپنے اقدامات سے باز آنے والا نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی اس رپورٹ کو بہت سراہا ہے۔
امین ابوراشد نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر عمل درآمد کرنے کے لیے اسرائیل پر دبائو ڈالیں اور اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تین رکنی پینل نے جاری کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی کنارے میں نجی کمپنیوں کے کام سے اگر فلسطینیوں کے انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو ان کمپنیوں کو اپنا کام بند کر دینا چاہیے۔ پینل نے عالمی ادارے کے ارکان ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کمپنیوں سے اس تجویز کی پابندی کرائیں۔
تحقیقاتی پینل کی رکن فرانسیسی جج کرسٹین چینٹ نے جنیوا میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ اسرائیل کو یہودی آبادکاری کی سرگرمیاں روک دینی چاہئیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نشانہ بننے والوں کا فوری اور مؤثر ازالہ کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی اس تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی علاقے میں یہودی آبادکاری چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے تحت مقبوضہ علاقے میں آبادی کی منتقلی کی ممانعت کی گئی ہے اور ایسا اقدام جنگی جرائم کے زمرے اور ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
مسٹر چینٹ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے اپنی آبادی کی ایک مقبوضہ علاقے میں منتقلی ممنوع ہے کیونکہ یہ عمل حق خودارادیت میں حائل ہو سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چینیٹ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جابرانہ کارروائیاں آئی سی سی کے قیام کے لیے طے شدہ روم معاہدے کی دفعہ 8 کے زمرے میں آتی ہیں اور یہ دفعہ آئی سی سی کے جنگی جرائم کے باب میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے گزشتہ سال مارچ میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی پینل مقرر کیا تھا۔ ناجائز ریاست اسرائیل نے اس کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا اور اس نے یہ جواز تراشا تھا کہ وہ اس سے تعصب رکھتا ہے اور اس نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ساتھ اپنا فرسودہ تاریخی تعلق اور تورات سے رشتہ جوڑتے ہوئے یہودی آبادکاروں کو بسانے کا عمل جاری رکھا ہے۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ نے حسب سابق اور حسب روایت اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو بھی فوری طور پر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے اسرائیل، فلسطینی تنازعے کو طے کرنے کے لیے کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
دوسری جانب تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔ پی ایل او کی سینئر عہدے دار حنان عشراوی نے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین اور حیران کن رپورٹ ہے۔ اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے اس مفصل اور جامع جائزے کو دیکھ کر ہمیں حوصلہ ملا ہے۔ اس رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسرائیل نہ صرف چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہے، بلکہ اسے روم معاہدے کے تحت قائم آئی سی سی کے دائرئہ کار میں بھی لے آتا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
