قاھرہ یونیورسٹی کے شعبہ فارمیسی کی ڈین اور ادویات و زہریلے مواد پر خصوصی لیکچرار ڈاکٹر عزہ منیرآغا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریڈی ایشن فزکس انسٹی ٹیوٹ لاسانے،
سوئٹزرلینڈ کی رپورٹ مکمل طور پر پڑھ لی ہے جس کے بعد اس میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ یاسر عرفات کی موت زہریلے مواد سے ہی ہوئی ہے۔
مصر کی معروف خاتون ڈاکٹر اور استاد نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بزرگ فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی موت کے متعلق پیش کی گئی تمام سائنسی وجوہات پڑھنے کے بعد اس ضمن میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ ان کے قتل کی وجہ زہریلے ریڈی ایشن پر مبنی مواد بولو نیم ہے جس کومرحوم کی اشیاء میں تلاش کیا گیا ہے۔
مصری ڈاکٹر و سائنسدان کا کہنا ہے کہ یاسر عرفات کے کپڑورں میں خون، پیشاب اور بولونیم کے ذرات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے کپڑوں سےہونے والی ریڈی ایشن ان کے جسم کو زہریلا کرنے کے لیے کافی تھی۔ یہ زہریلا مواد موت سے قبل کئی گھنٹے ان کے جسم کے ساتھ لگا رہا، یہ وہ عرصہ تھا جب ان کی وفات سے قبل زہریلے مواد کے ذرات ان کے کپڑروں میں موجود رہے۔
خاتون ڈاکٹر نے بتایا کہ بولونیم کا ریڈیو ایکٹو مواد نے ان کے جسم کے تمام حصوں کو متاثر کیا ہے جس میں ان کی ہڈیاں بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سابق فلسطینی مرحوم صدر کی قبر کشائی کر کے ہڈیوں کا معائنہ کیا گیا تو اس سے واضح طور پر معلوم ہو جائے گا کہ ان کے جسم میں بولونیم موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس زہریلے مواد کے مضر اثرات فلسطینی رہنما کے زندگی کے آخری دنوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے تھے۔ ان کے بالوں کا اڑنا، ہونٹوں کا کپکپانا اور چہرے کے عضلات کا فالج زدہ ہونا اسی ریڈیو ایکٹو مواد کے باعث تھا۔
خیال رہے کہ اس ماہ کے اوائل میں سوئس انسٹی ٹیوٹ نے دعوی کیا تھا کہ یاسر عرفات کی ذاتی اشیاء میں بولونیم زہر کے آثار ملے ہیں۔ جس پر یاسر عرفات کی بیوہ نے ان کے جسد خاکی کے کیمیائی تجزئیے کرانے کا مطالبہ کر دیا تھا۔
ریڈی ایشن فزکس انسٹی ٹیوٹ لاسانے، سوئٹزرلینڈ کی ترجمان ڈارسی کریسٹن کا کہنا تھا کہ مرحوم فلسطینی رہ نما کی 210 زیر استعمال چیزوں میں بولونیم زہر کی آمیزش کی حیران کن مقدار ملی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یاسرعرفات کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بولونیم کے آثار کا ذکر نہیں، اس لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل امر ہے کہ آیا فلسطینی رہنما کو زہر دیا گیا تھا یا نہیں۔
یاد رہے کہ کئی عشروں تک فلسطینی مزاحمت کی علامتی شناخت کے طور پر متعارف یاسر عرفات سنہ 2004ء کو فرانس کے ایک اہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ مرحوم فلسطینی رہنما کا اچانک انتقال انہیں زہر دیئےجانے کا نتیجہ تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
