مصری صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے ڈاکٹر عبد المنعم ابو الفتوح کا کہنا ہے کہ وہ ااقتدار میں آکر اسرائیل کے ساتھ ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں تبدیلی اور مصری نقصانات پر مبنی شقوں کو منسوخ کروانے کی کوشش کرینگے۔
جمعہ کی شام قاھرہ میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حسنی مبارک کی حکومت کی جانب سے اپنے غزہ کےبھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان دوبارہ دوہرائی نہیں جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصر اسلحے کے حصول میں مشغول ہے تاہم یہ اسلحہ جنگ کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہے تاکہ اندرون و بیرون مصر اپنے شہریوں کی حفاظت کی جا سکے۔
کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی موجودگی میں مصری فوج کو مسلح کرنے کی کیا صورت ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں ابو الفتح کا کہنا تھا کہ ان کے ملک کو ایک خاندان چلا رہا تھا اور یہاں پر کوئی سیاسی نظام موجود نہیں تھا۔ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ بھی حکمرانوں کے اسی ٹولے نے کیا، اس معاہدے پر پارلیمان میں بحث تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہیں حکومت ملی تو وہ اس معاہدے پر پارلیمان میں بحث کروائیں گے اور مصر کے لیے نقصان دہ شقوں کو منسوخ کر دیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین۔

