فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے مصری قیادت سے اسرائیل کے ساتھ کیے گئے کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ غزہ کی مسجد خلیل الوزیر میں جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا ہم اپنے مصری بھائیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کیمپ ڈیوڈ معاہدے پر نظر ثانی کریں ۔ انہوں نےکہا کہ سیناء اور رفح کراسنگ کےحوالے سے نئی حکمت عملی وضع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص سکیورٹی گیپ پیدا کرنے والی شقیں جنہیں اسرائیل کسی بھی وقت مصر کے امن کا تار تار کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصری فیصلہ سازی کے اس بحران کے حوالے سے ایک ھنگامی ایجنڈے پر گفتگو ہونا چاہیے۔ اسماعیل ھنیہ نے کہا کہ ہم الاخوان المسلمون سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سیناء کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دیں، جن میں سیناء کی عوام کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہو۔ سینا کی ترقی، تعلقات کی بحالی اور اس کا ویسا ہی تحفظ جیسا پورے مصر کا کیا جاتا ہے پیش نظر ہو۔
انہوں نے رفح کراسنگ کے معاملے میں بھی ایسی نئی پالیسی کی ضرورت پرزور دیا جس میں مصر کی طرف وقوع پذیر ہونے والے واقعات کے غزہ میں اثرات نہ پڑتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اہالیان غزہ ایک محصور قوم ہیں۔ انہوں نے 25 جنوری کے مصری انقلاب کے بعد مصری قوم کے جوش و جذبے کو سراہا اور کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسا میکنزم تیار کیا جائے جس میں رفح کراسنگ کو بند نہ کیا جا سکے۔
رفح کراسنگ کی حالیہ بندش کے باعث اہالیان غزہ کو درپیش مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نئے تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جس میں غزہ کی خودمختاری ہو اور قانون کی پاسداری ہو۔ اور جس میں کسی انفرادی شخص یا گروپ کو یہ قدرت نہ ہو کہ وہ مصری علاقے میں کارروائی کرکے غزہ کی بیس لاکھ کی آبادی کو مصیبت میں ڈال دے۔
