فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں یہودی توسیع پسندی کے خلاف ہونے والے فلسطینیوں کے ہفتہ وار احتجاجی مظاہرے کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں 70 سالہ شہری سمیت سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں کفر قدوم، النبی صالح اور بلعین کے فلسطینی شہریوں نے نماز جمعہ کے بعد ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اسرائیلی فوجیوں اور پولیس نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا، آنسوگیس کی شیلنگ کی اور ان پر دھاتی گولیوں کی بوچھاڑ کردی جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔ فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے سیکڑوں فلسطینیوں کو کفر قدم قصبے میں مسجد عمر بن الخطاب میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آنے سے روک دیا جس کے بعد انہیں نماز سڑک پر ادا کرنا پڑی۔ اسی مسجد سے بعد ازاں ریلی نکالی گئی تھی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے آنسوگیس کی شیلنگ سے ایک عمر رسیدہ خاتون بھی زخمی ہوئی جسے بعد ازاں رفیدیا اسپتال منتقل کردیا گیا۔ آنسوگیس کی شیلنگ سے کئی نوجوان براہ راست متاثر ہوئے۔
صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ صرف فلسطینی مظاہرین ہی نہیں بلکہ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی بنے۔ قابض فوجیوں نے ریلی کی کوریج کے لیے آنے والی میڈیا ٹیموں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں برطانوی خبر رساں ایجنسی "رائیٹرز” کا ایک فوٹر گرافر عبدالرحمان قوصینی زخمی ہوگیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
