فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت "الفتح” کی مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کی قیادت میں اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ جماعت کے ایک مرکزی عہدیدار نےعندیہ ظاہر کیا ہےکہ پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والے بعض رہ نماؤں کو پارٹی سے نکالے جانے یا ان کے خلاف سخت کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کی سینٹرل کمیٹی کے ایک سینیئر رُکن جمال محیسن نے میڈیا کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کے بعض رہ نما پارٹی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ سینٹر کمیٹی نے احتجاج ختم کرانے اور ان رہ نماؤں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ کمیٹی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ آیا پارٹی کے فیصلوں کے مخالف ارکان کو جماعت میں رکھا جائے یا نہیں۔
جمال محیسن کا کہنا تھا کہ سینٹرل کونسل کے زیراہتمام قائم کردہ کمیٹی جلد ہی صدر محمود عباس سے ملاقات کرے گی۔ صدر کمیٹی ارکان کو منحرف اور مخالفت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیں گے۔ جس کے بعد کمیٹی اپنا کام شروع کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں جمال محیسن کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت میں اختلافات دور کرنے کے حوالے سے کچھ پیچیدگیاں اور مشکلات بھی حائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پارٹی کے تمام رہ نماؤں کو متحد رکھا جائے اور انہیں پارٹی کے اجتماعی فیصلوں اور سینٹرل کمیٹی کی قراردادوں کا پابند بنایا جائے۔
غزہ کی پٹی میں پارٹی قیادت میں تبدیلی سے متعلق سوال کے جواب میں جمال محیسن کا کہنا تھا کہ فی الحال پارٹی قیادت میں تبدیلی کا کوئی پروگرام نہیں ہے، جن لوگوں کو پارٹی عہدوں سے ہٹایا گیا ان میں ایک یمن اور ایک قاہرہ میں تھا۔ تاہم انہوں نے ان رہ نماؤں کے نام نہیں بتائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
