اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے معروف علاقے ”وادی اردن” کی ایک پوری کالونی کو دو روز کے اندر علاقہ خالی کرنے کا حکمنامہ جاری کر دیا، طویل عرصے سے اس علاقے کے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا صہیونی حکومت کے تازہ فیصلے سے ایک ہزار افراد کو گھروں سے محروم ہونا پڑے گا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے اس فیصلے پر فلسطینیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
واد ی اغوار کے علاقے وادی مالح کی کونسل کے سربراہ عارف دراغمہ نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ مالح اور اس کے اطراف کے علاقوں کے رہائشیوں کو گھر خالی کرنے کے حکمنامے براہ راست سپرد کیے گئے، لکھے ہوئے سرکاری نوٹسز جاری کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیونی حکومت اس فیصلے سے عمل درآمد کروانے میں سنجیدہ ہے اور بدھ کے روز مہلت ختم ہوتے ہی انہدامی کارروائیاں شروع کر دی جائیں گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت نے کچھ ماہ قبل فوجی مشقوں کے نام پر علاقے میں خیمہ زن فلسطینیوں کو خیمے اکھاڑ پھینکے تھے جس سے درجنوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔
