اردن کی سرحد سے متصل فلسطینی علاقہ وادی اردن (اغوار) کل مغربی کنارے کا 25 فیصد حصہ بنتا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جس پر اسرائیلی حکام کی توجہ بہت زیادہ ہے۔ اسی وجہ سے یہاں پر یہودی بستیوں کی تعداد اور توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہودیوں کو جدید سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ یہاں پر بسنےوالے فلسطینیوں کی مصائب میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ آئے روز مختلف بہانوں سے عرب بدووں کی آبادیوں پر حملے کیے جاتے ہیں، اراضی کو فوجی ممنوعہ علاقہ قرار دیکر انہیں ہجرت پر مجبورکردیا جاتا ہے۔
عرب آبادی کے پکے گھروں، خیمہ بستیوں، مویشیوں کے باڑوں اور پانی کے کنووں کو ملیامیٹ کردیا جاتا ہے۔ جس کے بعد مجبور ہوکر پہلے سے کس مپرسی کی زندگی بسر کرنے والے فلسطینیوں کو اس علاقے سے ہی نکلنا پڑ جاتا ہے۔
فلسطینیوں کے ساتھ نسلی تعصب کا یہ مظاہرہ گزشتہ چھیالیس سال سے جاری ہے۔ یہاں پر بھی پر اسرائیل کی وہ ذہنیت کام کر رہی ہے جو وہ سن 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کے علاقے نقب کے بدووں کے ساتھ اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح نقب میں تمام عرب آبادیوں کو ایک معین علاقے میں جمع کرنے کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اسی طرح سن 1967ء میں اسرائیلی قبضے میں جانے والے مغربی کنارے کی وادی اردن کے بدووں کو بھی ایک جگہ جمع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
حال ہی میں ایک عبرانی روزنامے ”واللا” کی ویب سائٹ پر اس منصوبے کو تصاویر کے مدد سے پیش کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں نقب کے بدووں کے ساتھ کیے جانے والے اسرائیلی حکام کے سلوک کو تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح اسرائیلی گزشتہ کئی سالوں سے ان سب کو مخصوص علاقوں میں جمع کرنے اور ان کا محاصرہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس طرح وہ عرب بدووں کی آبادیوں پر قبضہ کرتا چلا جارہا ہے۔
اسرائیلی منصوبے کے مطابق عرب شہریوں کو بسانے کے لیے 1800 ایکڑ اراضی ان کے سپرد کردی جائے گی جہاں پر تمام فلسطینی بدووں کو رہائش دیدی جائے گی۔ اس علاقے کا نام ”نویعمہ” رکھا جائے گا۔ اس نئے علاقے میں گھر بنانے کے لیے صہیونی سول انتظامیہ سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔ کیونکہ یہ نیا شہر بھی کیٹگری سی میں شامل ہوگا۔
یہودی آباد کاری کے تحقیق کار غسان ڈگلس کا کہنا ہے کہ وادی اردن (اغوار) کا علاقہ میں یہودی آبادی کاری میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں پر فلسطینی شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ مار کر یہودی آباد کاروں کو نوازا جارہا ہے۔ آئے روز فلسطینی کسانوں پرحملے کرکے زمینوں سے محروم کیا جارہا ہے۔
120 کلومیٹر طویل اور 15 کلومیٹر چوڑے وادی اردن کے علاقے میں بسنے والے فلسطینی انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ بہت سے فلسطینی بھیڑ بکریاں چرا کر گذر اوقات کر رہے ہیں۔ ایک گلہ بان مصطفی کعابنہ نے بتایا کہ وہ بیسیوں سالوں سے یہاں پر مویشی چرا رہے ہیں مگر اب انہیں اغوار میں ہی کسی دوسری جگہ ہجرت پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ہمیں ہماری زمینوں سے محروم کیا جارہا ہے جہاں پر دنیا کے مختلف علاقوں سے آنے والے یہودیوں کو رہائش دی جا رہی ہے۔
فلسطینی مجلس قانون ساز کے رکن پارلیمان حسن خریشہ نے واضح انداز میں کہا کہ وادی اردن میں فلسطینیوں کی نسلی تطہیر ہو رہی ہے۔ اس وادی کو فلسطینیوں سے خالی کیا جارہا ہے۔ فلسطینیوں کی اراضی ہتھیانے کے لیے مختلف حربے اپنائے جا رہے ہیں۔ المالح کی دیہی کونسل کو سربراہ عارف دراغمہ نے بھی کہا کہ فلسطینی آبادیوں پر حملے اور انہیں وادی کے کسی علاقےمیں محدود کرنے کی اسرائیلی منصوبہ بندی اسٹریٹجک نقطہ نظر سے اس اہم ترین علاقے پر مکمل قبضے کے پروگرام کا حصہ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اس پروگرام کو ”وادی اردن پر مضبوط قبضے” کا عنوان بھی دے رکھا ہے۔
اسرائیلی روزنامے ”ھارٹز” میں شائع اپنی رپورٹ میں ایک اسرائیلی خاتونی صحافی عمیرہ ھس کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں جاری فلسطینیوں کو کسی ایک علاقے میں جمع کرنے کے اسرائیلی پروگرام کے خلاف سخت مزاحمت کی جارہی ہے۔ عرب بدووں کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ ہزاروں فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنے کا پروگرام ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
