مغربی کنارے کی اردن سے ملحق مشرقی سرحد پر پھیلی وادی اردن (الاغوار) کے علاقے ”المالح” کی دیہی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے علاقے میں پانی کے تمام ذخائر خشک کردیے جانے کے باعث یہاں رہنے والے فلسطینیوں کی زندگی انتہائی مشکل ہوگئی ہے۔
دیہی کونسل کے مطابق المالح اور المضارب کے رہائشی اس وقت الاغوار اور طمون کے علاقوں میں جاکر پانی لاتے ہیں جس کے لیے ان کا پورا دن ضائع ہو جاتا ہے۔ پوری دن کی اس جدوجہد کے بعد المضارب میں بسنے والوں چھوٹے بچوں کو پانی نصیب ہوتا ہے۔ اس علاقے کے لیے مکینوں کے لیے پانی کا کوئی مخصوص ذخیرہ موجود نہیں ہے۔ المالح کی جانب آنے والی پانی کی پائپ لائنوں کو اسرائیل خشک کر چکا ہے۔
کونسل نے بتایا کہ وادی اردن کا ایک تہائی حصہ بننے والے علاقے المالح میں اسرائیلی کمپنی میکروت کے واٹر پائپ لائنیں موجود ہیں جو پانی سے محروم فلسطینیوں کے قریب ہی درجنوں یہودی بستیوں کو پانی پہنچا رہی ہیں مگر کوئی فلسطینی اپنے بچوں اور خاندان کے لیے ان پائپ لائنوں سے ایک قطرہ پانی لینے کا مجاز نہیں۔
المالح دیہی کونسل کے سربراہ عارف دراغمہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں پانی کے ذرائع اور ذخائر ختم ہونے کی وجہ سے شدید خطرات پیدا ہوگئے ہیں، اب تک درجنوں خاندان ایسے علاقوں کی جانب ہجرت کر گئے ہیں جہاں پر انہیں لگا کہ ان کی زندگی پانی سے محروم اس علاقے سے کچھ بہتر ہوسکتی ہے۔
منگل کے روز اپنے بیان میں دیہی کونسل نے بتایا کہ المالح کے علاقےمیں درجنوں آبادیوں اور دیہاتوں کو اسرائیل نے 1967ء مسمارکردیا تھا، ان علاقوں میں اسرائیلی جارحیتیں اب بھی جاری ہیں، آئے روز یہاں پر فلسطینیوں کی اراضی ہتھیا لی جاتی ہے۔ تعمیرات کو منہدم کرنا، چراگاہوں کو نذر آتش کرنا، گھروں کو گرانے کے نوٹسز معمول بن چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
