عبرانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور جیوش ہوم پارٹی کے رہنما نفتالی بینیٹ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت نفتالی کی جانب سے فلسطینی اسیران کی رہائی کی حمایت کے بدلے میں اسرائیلی حکومت یہودی آبادکاری کی سرگرمیوں میں اضافہ کردے گی۔
یہ معاہدہ بینیٹ کی جانب سے 1967 کی سرحدوں کی بحالی اور فلسطینی اسیران کی رہائی کے بدلے میں فلسطین کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کے نتیجے میں اپنی مذہبی صیہونی جماعت کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی پر کیا گیا تھا۔
اس معاہدے میں نیتن یاہو کی جانب سے مغربی کنارے میں 5000 ہائوسنگ یونٹس کی تعمیر کا عہد کیا گیا ہے۔ عبرانی میڈیا نے مزید بتایا کہ لیبر پارٹی کی ممبر کنیسٹ میراف میکالی نے حکومت کے لیگل ایڈوائزر سے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی چھان بین کریں۔ انہوں نے اس معاہدے کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے معاہدے یہودی بستیوں کی تعمیر سے مشروط نہیں ہونے چاہئیے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
